بھارت

آپریشن بلیو سٹار سکھوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سیاہ باب کی یاد دلاتا ہے

امرتسر : دنیا بھر میں مقیم سکھ آپریشن بلیو سٹارکو 42 سال مکمل ہونے پر1984 میں گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوج کے حملے سے لگنے والے زخموں کو یاد کرتے ہیں جسے بھارت میں سکھوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں انسانی حقوق کی سب سے بڑی خلاف ورزیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سکھ تنظیموںاور ارکان کا کہنا ہے کہ 2 جون 1984 کو شروع کیے گئے آپریشن کے نتیجے میں ہزاروں سکھ مارے گئے جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل تھے۔سکھ تنظیموں کے اندازوں کے مطابق مرنے والوں کی تعداد 10,000 سے زیادہ تھی۔سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل میںپھنسے عقیدت مندوں اور معصوم یاتریوں کو شدید گولہ باری کا سامنا کرنا پڑا اوربھارتی فوج کے حملے سے گولڈن ٹیمپل کے اندر اکال تخت اور دیگر مقدس چیزوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ آپریشن کے دوران مارے جانے والوں میں سرکردہ سکھ رہنما شامل تھے جن میں جرنیل سنگھ بھندرانوالہ اور جنرل شبیگ سنگھ شامل تھے۔انسانی حقوق کے کارکنوںکا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی کے دوران زندگی کے حق، مذہبی آزادی اور شہریوں کے تحفظ کو مکمل طور پر نظرانداز کیاگیا۔ ملک میں میڈیا بلیک آو¿ٹ نافذ کر دیا گیا اور سانحے کی نوعیت کو کم کرنے کے لیے ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں ہیرا پھیری کی گئی۔ آپریشن نے جس میں فوجی مقاصد کو انسانی تحفظ اور اخلاقی اقدار پر ترجیح دی گئی، سکھ برادری پر گہرے جسمانی اور نفسیاتی اثرات چھوڑے۔آپریشن میں شفافیت اور جوابدہی کی کمی نے سکھ برادری اور بھارتی ریاست کے درمیان بداعتمادی کو مزید گہرا کردیا ہے۔ بہت سے لوگ آپریشن بلیو سٹار کو محض ایک فوجی کارروائی کے طور پر نہیں بلکہ سکھوں کی شناخت اور مذہبی تقدس پر سوچا سمجھا حملہ سمجھتے ہیں۔چار دہائیوں کے بعد بھی 1984 کے زخم تازہ ہیں جو بھارت کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر ایک بدنما دھبہ ہیں اور اس بات کی یاددہانی کر رہے ہیں کہ جب ریاست مکالمے اور انصاف پر طاقت کے استعمال کو ترجیح دیتی ہے تو عام شہریوں کو کتنی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button