اتراکھنڈ :ریلی کے دوران بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کوشدید عوامی غم وغصے کا سامنا
مظاہرین کا متنازعہ یو جی سی ریگولیشنز کی منسوخی کا مطالبہ

نئی دلی:بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں ایک ریلی کے دوران بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کو اپنے ہی ہندو حامیوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر عوامی غم و غصے کا سامنا کرنا پڑا، جس سے بی جے پی کے ووٹ بینک میں پڑنے والی دراڑیں واضح ہو گئی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق امیت شاہ نے ریلی کے شرکاء کے بات بڑھکانے اور”بھارت ماتا کی جئے ”کے نعرے لگوانے کی ہر ممکن کوشش کی تاہم ہندوتواحامیوں نے خاموشی اختیار کئے رکھی ۔ مظاہرین نے امیت شاہ کی اپیلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ”یو جی سی واپس لو” کے نعرے بلند کرتے ہوئے یو جی سی ریگولیشنز 2026کی منسوخی کا مطالبہ کیا۔ اس واقعے سے متنازعہ ضوابط کے خلاف طلبا اور عوام میں پائے جانے والے شدید غصے کو ظاہر کرتا ہے۔ان متنازعہ قوانین سازی سے ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ناقدین کے مطابق ذات پات کی بنیاد پر تحفظات کو پسماندہ کمیونٹیز تک محدود کرکے عام اور اعلیٰ ذات کے طلبا کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے جبکہ مبہم دفعات کے ذریعے غلط استعمال کو ممکن بنایا جاتا ہے۔ریلی کے مناظر بی جے پی کے لیے شدید شرمندگی کا باعث بنے ہیں اوراس سے ظاہرہوتاہے کہ بی جے پی کی ہندو ووٹ بینک پر گرفت کمزور ہورہی ہے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ مودی حکومت کے حامیوں کے اندر بڑھتی ہوئی ناراضگی کا پہلا واضح اشارہ ہے، جو اب صرف نجی سطح پر نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی ظاہر ہو رہی ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے طلبا اور اونچی ذات کے ہندوئوں میں حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی ناراضگی ظاہر ہوتی ہے جو بی جے پی کی ہندوتوا پالیسیوں کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے








