مقبوضہ جموں و کشمیر

سوپور میں پانی کی شدید قلت کے خلاف خواتین کا احتجاج

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سوپور قصبے کی خواتین نے منگل کوپینے کے پانی کی شدید قلت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے سڑک کو بندکردیا ۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سنگرام پورہ، ممکاک، خواجہ گلگت اور خوشحال متو کے رہائشی بالخصوص خواتین شاہ درگاہ چوک پر جمع ہوئیں اور تقریباً ایک گھنٹے تک ٹریفک روک دی۔ مظاہرین نے حکام کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے پانی کے طویل بحران پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ بار بار کی درخواستوں اور شکایات کے باوجود وہ گزشتہ ایک ماہ سے پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں اور قریبی ندیوں اور دیگر غیر محفوظ ذرائع سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آلودہ پانی سے ان کی صحت کو خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ مظاہرین نے کہاکہ ہمارے پاس دریا سے پانی لانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ پانی پینے کے لیے محفوظ نہیں ہے اور ہمارے بچے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکارہوجاتے ہیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ جل شکتی کے عہدیداروں سے متعدد بار رابطہ کرنے کے باوجود کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایاگیا ۔ مظاہرین نے ضلع انتظامیہ بارہمولہ اور جل شکتی کے اعلیٰ عہدیداروں سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے خبردارکیاکہ اگر یہ مسئلہ حل نہ کیاگیا تو وہ آنے والے دنوں میں اپنی تحریک کو تیز کرنے پر مجبور ہوں گے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button