مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں مزیدچار نوجوان شہید کردیے

محاصرے اورتلاشی کی کارروائیوں کے دوران کئی نوجوان گرفتار
سرینگر07جون (کے ایم ایس) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائیوں میں کپواڑہ ، بارہمولہ اور شوپیان اضلاع میں مزید چار کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فوجیوں نے دونوجوانوں کو ضلع کپواڑہ کے علاقے کنڈی میں محاصرے اورتلاشی کی ایک پرتشدد کارروائی کے دوران شہیدکیا۔ فوجیوں نے اسی طرح کی کارروائیوں میں ضلع بارہمولہ کے علاقے زالورہ میں ایک اور ضلع شوپیان کے علاقے بادی مرگ میں ایک نوجوان کو شہید کیا۔
دریں اثناءبھارتی فوج اور پولیس نے ڈوڈہ ، کشتواڑ ، رام بن ، شوپیاں اور بڈگام اضلاع میں محاصرے اورتلاشی کی کارروائیوں کے دوران کئی نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار نوجوانوں کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون (یواے پی اے) کے تحت مقدمات درج کئے گئے۔ بہت سے نوجوانوں کو پوچھ گچھ کے نام پر پولیس سٹیشنوں اورفوجی کیمپوں پر طلب کیا گیا جہاں انہیں سفاک فورسز کے اہلکاروں نے تشددکا نشانہ بنایا اور ہراساں کیا۔
سرینگر اور دیگر علاقوں میں ایک بار پھر پوسٹر چسپاں کئے گئے جن میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں مودی کی ہندوتوا حکومت کی طرف سے جاری کشمیری دشمن پالیسیوں کی مذمت کی گئی۔ پوسٹروںمیں مودی کی زیر قیادت ہندوتوا حکومت کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں نوجوانوں کو نشانہ بنانے پرمجرمانہ خاموشی اختیارکرنے پر اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی مذمت کی گئی۔
بی جے پی حکومت نے جموں خطے میں نام نہاد دیہی دفاعی کمیٹیوں کے نام پر بھارتی فوج کے حمایت یافتہ قاتلوں کے گروہ کو دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کمیٹیوں سے وابستہ آر ایس ایس کے غنڈوں نے ماضی میں کئی بے گناہ کشمیری مسلمانوں کو قتل کیا تھا۔
ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما محمد مصدق عادل کے انتقال پر تعزیتی پیغامات آنے کا سلسلہ آج بھی جاری رہا۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے نظربندسینئر رہنما ﺅںشبیر احمد شاہ اور نعیم احمد خان نے نئی دہلی کی تہاڑ جیل سے اپنے پیغامات میںکشمیر کاز کے لیے مرحوم رہنما کی قربانیوں پر انہیںخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے حق خودارادیت کے لئے جدوجہد جاری رکھنے کے کشمیری عوام کے عزم کا اعادہ کیاہے۔
میرواعظ عمر فاروق کی سربراہی میں عوامی مجلس عمل نے ایک بیان میں اپنے رہنما اور سماجی و سیاسی کارکن مولوی مشتاق احمد کو ان کی 18ویں برسی پر خراج عقیدت پیش کیاہے۔ مولوی مشتاق احمد کو 2004میں نامعلوم مسلح افراد نے سرینگرمیں اس وقت شہید کیاتھا جب وہ ایک مسجد سے باہر آرہے تھے۔

متعلقہ مواد

Leave a Reply

Back to top button
%d