کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کاسعداللہ تانترے،مصدق عادل کو شاندار خراجِ عقیدت

اسلام آباد: کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ نے اسلام آباد میں کنوینر غلام محمد صفی کی زیرصدارت ایک پروقار تقریب کا انعقادکیاجس میں تحریکِ آزادی کشمیر کے ممتاز رہنماو¿ں سعداللہ تانترے اورمصدق عادل کو ان کی برسی پر شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ سعداللہ تانترے اورمصدق عادل نے اپنی پوری زندگی تحریکِ آزادی کشمیر، حقِ خودارادیت اور کشمیری عوام کے جائز حقوق کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کی زندگی عزم، استقامت، ایثار اور نظریاتی وابستگی کی روشن مثال ہے جو تحریکِ آزادی کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔مقررین نے کہا کہ سعداللہ تانترے جموں خطے میں تحریکِ آزادی کشمیر کے ایک مخلص اور بے باک رہنماتھے جنہوں نے انتہائی مشکل اور نامساعد حالات میں آزادی کے پیغام کو عوام تک پہنچانے کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ انہوں نے جموں خطے میں شدید دباو¿، ریاستی جبر اور محدود وسائل کے باوجود تحریکِ آزادی کو زندہ رکھنے اور منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔مقررین نے کہا کہ مصدق عادل ایک نڈر، بااصول اور باوقار حریت رہنما تھے جنہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی اپنے قومی مو¿قف پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کا پورا خانوادہ کئی دہائیوں سے تحریکِ آزادی کشمیر کے ساتھ وابستہ رہا اور اس خاندان نے بے شمار مشکلات، آزمائشوں اور قربانیوں کے باوجود آزادی کے مشن سے اپنی وابستگی برقرار رکھی۔مقررین نے کہا کہ ان کے والد گرامی نے تحریک کے ابتدائی مراحل میں فکری اور نظریاتی رہنمائی فراہم کی جبکہ خاندان کے دیگر افراد نے بھی تحریک کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مقررین نے 1990ءکی دہائی میں ان کے چھوٹے بھائی خورشید عادل کی جبری گمشدگی کو کشمیر کے انسانی المیوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے والدین اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک اپنے گمشدہ بیٹے کی واپسی کے منتظر رہے۔۔ کنوینر غلام محمد صفی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ پاکستان نے گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران مسئلہ کشمیر کو ہرسیاسی، سفارتی اور بین الاقوامی فورم پر مستقل مزاجی اور اصولی مو¿قف کے ساتھ اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام پاکستان کی اس مسلسل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس حوالے سے پاکستان کی حکومت، عوام اور ریاستی اداروں کے شکر گزار ہیں۔غلام محمد صفی نے آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے حکومتِ پاکستان، آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت اور عوامی نمائندوں پر زور دیا کہ تمام معاملات کو افہام و تفہیم، باہمی احترام اور تعمیری مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان سے اپیل کی کہ عوامی مطالبات اور تحفظات کے حل کے لیے متعلقہ فریقین کے ساتھ مثبت اور نتیجہ خیز مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے تاکہ باہمی اعتماد، سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔انہوں نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور دیگر عوامی نمائندہ حلقوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے مطالبات کے حصول کے لیے پرامن، جمہوری اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو برقرار رکھیں اور ایسے حالات پیدا ہونے سے گریز کریں جو قومی مفاد، عوامی ہم آہنگی یا کشمیر کاز کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں۔
غلام محمد صفی نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گرفتاریوں، سیاسی پابندیوں اور بنیادی آزادیوں پر قدغنوں کے متعدد واقعات عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس میں سامنے آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام پاکستان کو اپنا سیاسی، سفارتی اور اخلاقی پشتبان سمجھتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ ان کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے بین الاقوامی سطح پر حمایت اور آواز بلند کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔تقریب کے اختتام پر مرحوم رہنماو¿ں کے درجات کی بلندی، مغفرت اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی گئی۔ تقریب میں دیگرلوگوں کے علاوہ سینئرحریت رہنما محمد فاروق رحمانی ،محمود احمد ساغر، میر طاہر مسعود ، پرویز احمدشاہ ، مشتاق احمد بٹ ،حسن البنائ، شمیم شال،محمد رفیق ڈار،شیخ عبد المتین ،شیخ محمد یعقوب ،داﺅد خان،جاوید بٹ ،نثار مرزا ،اعجازرحمانی ،حاجی محمد سلطان ،میاں مظفر،زاہد صفی،امتیاز وانی،شیخ عبد الماجد ،محمد شفیع ڈار ،سید گلشن،منظور احمد ڈار،نذیر کرنائی، زاہد مجتبیٰ ، اویس بلال ،ریئس میر،قاضی عمران،امتیاز بٹ اورعبدالرشید بٹ نے بھی شرکت کی۔








