APHC-AJK

اسلام آباد:حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کا شہدائے چوٹہ بازار کوشاندار خراج عقیدت

اسلام آباد:
کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے زیر اہتمام اسلام آباد میں میںسانحہ چوٹہ بازار کے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور ان کے ایصالِ ثواب کے لیے ایک پروقار دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کنونیر غلام محمد صفی کی زیر صدارت تقریب میں حریت قیادت، سیاسی و سماجی شخصیات، کارکنان اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ شرکا نے شہدائے چوٹہ بازار سمیت تحریکِ آزادی کشمیر کے تمام شہدا کی عظیم قربانیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔اس موقع پر غلام محمد صفی نے کہا کہ سانحہ چوٹہ بازارجموں و کشمیر کی تاریخ کے ان المناک اور دلخراش واقعات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ 11 جون 1991 کو سرینگر کے علاقے چوٹہ بازار میں بھارتی پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں کی اندھا دھند فائرنگ سے خواتین اور بچوں سمیت کم سے کم 32 افراد شہیدجبکہ درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ شہدا میں دکاندار، مزدور، راہگیر، نوجوان، بزرگ اور عام شہری شامل تھے جو اپنی روزمرہ زندگی کے معمولات میں مصروف تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ نہ صرف کشمیری عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی کی ایک بھیانک مثال تھا بلکہ یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین، جنیوا کنونشنز اور بنیادی انسانی اقدار کی بھی صریح خلاف ورزی تھی۔انہوں نے افسوس ظاہر کیاکہ سانحے کو تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود نہ تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے اور نہ ہی متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا گیا۔غلام محمد صفی نے کہا کہ چوٹہ بازار کے شہدا نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے آزادی، انصاف اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو نئی قوت بخشی۔ ان کی قربانیاں کشمیری قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شہدا کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا اور کشمیری عوام اپنے ان عظیم سپوتوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، سیاسی قیدیوں کی غیر قانونی نظربندی، جائیدادوں کی ضبطگی اور شہری آزادیوں پر عائد پابندیوں کافوری نوٹس لیں اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ان کا ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت دلانے کے لیے موثر کردار ادا کریں۔حریت کنونیر نے واضح کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کا مستقل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی پشتبان ہے اور اس نے ہر بین الاقوامی فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کی کنجی ہے اور اس کے منصفانہ اور دیرپا حل کے بغیر خطے میں امن کا خواب شرمند تعبیر نہیں ہو سکتا۔تقریب میں مظفرآباد میں پیش آنے والے ہیلی کاپٹر حادثے پر بھی گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ حریت رہنماں نے اس المناک حادثے میں پاک افواج کے شہید ہونے والے جوانوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وطن کے دفاع، قومی سلامتی اور اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے یہ بہادر سپوت پوری قوم کا سرمایہ افتخار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں اور قوم ہمیشہ اپنے شہدا کی عظیم خدمات کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتی رہے گی۔تقریب کے اختتام پر شہدائے چھوٹا بازار سمیت تحریکِ آزادی کشمیر کے تمام شہدا، مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثے کے شہدا، اسیرانِ حریت اور امتِ مسلمہ کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button