بنگلہ دیش کے مشیر اعلی ڈاکٹر زاہد الرحمن کے ساتھ دہلی ایئرپورٹ پر مبینہ بدسلوکی

ڈھاکہ / نئی دہلی: بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک نیا سفارتی تنازعہ اْس وقت پیدا ہو ا جب بنگلہ دیش کے مشیر اعلیٰ ڈاکٹر زاہد الرحمٰن کے ساتھ نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام کی جانب سے مبینہ طور پر توہین آمیز سلوک اور طویل پوچھ گچھ کی گئی، جس کے بعد وہ اپنا دورہ مکمل کیے بغیر واپس ڈھاکہ روانہ ہو گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وزیراعظم کے پالیسی و اسٹریٹیجی امور کے مشیر ڈاکٹر زاہد الرحمٰن بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والی انڈین اوشین رم ایسوسی ایشن (IORA) کے دو روزہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں بنگلہ دیشی وفد کی قیادت کر رہے تھے۔ جب وہ نئی دہلی پہنچے تو بھارتی امیگریشن حکام نے انہیں تقریباً دو گھنٹے تک سخت اور طویل پوچھ گچھ کا نشانہ بنایا۔
رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیشی ہائی کمیشن نے بھارتی وزارتِ خارجہ کو ان کے دورے اور وفد کی قیادت سے متعلق باضابطہ طور پر آگاہ کر رکھا تھا، اس کے باوجود امیگریشن حکام نے غیر معمولی رویہ اختیار کیا ۔ذرائع کے مطابق اس صورتحال سے دلبرداشتہ ہو کر ڈاکٹر زاہد الرحمٰن نے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا اور اپنا پاسپورٹ واپس لے کر فوری طور پر کولمبو کے راستے ڈھاکہ واپس روانہ ہو گئے جبکہ ان کا دورہ چار دن کے لیے طے تھا۔اس واقعے پر بنگلہ دیش میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور اسے بھارت کی جانب سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ غیر مساوی اور سخت رویے کی ایک اور مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایک اعلیٰ سرکاری مشیر کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ سفارتی آداب کی خلاف ورزی ہے اور اس نے دوطرفہ تعلقات میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بھارت کے اس رویے کی عکاسی کرتا ہے جسے وہ خطے میں بالادستی کے رجحان کے طور پر دیکھتے ہیں۔






