پیرس: فرانس میں منعقدہ جی سیون سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ہونے والی ملاقات سوشل میڈیا اور بھارتی میڈیا میں موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے جہاں متعدد صارفین نے دونوں رہنماو¿ں کے درمیان فاصلے اور نسبتاً سرد رویے کی نشاندہی کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں کہاگیاکہ تقریباً 16 ماہ بعد دونوں رہنما ایک بار پھر آمنے سامنے آئے۔ تاہم اس ملاقات میں وہ گرمجوشی دکھائی نہیں دی جس کا ماضی میں اکثر مشاہدہ کیا جاتا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں رہنماو¿ں نے ملاقات کے موقع پر مصافحہ کیا اور مختصر گفتگو بھی کی، لیکن ماضی کے برعکس ایک دوسرے کو گلے لگانے یا غیر معمولی قربت کا اظہار نہیں کیا۔بھارتی میڈیا نے بھی اس ملاقات کے انداز پر تبصرے کیے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اجلاس کے دوران میٹنگ ہال میں دونوں رہنماو¿ں کے درمیان رسمی گفتگو ہوئی، تاہم باڈی لینگویج اور مجموعی ماحول کو دیکھتے ہوئے مبصرین نے اسے نسبتاً سرد ملاقات قرار دیا۔بعد ازاں جب جی سیون اجلاس میں شریک عالمی رہنما گروپ فوٹو کے لیے ہال سے باہر آئے تو اس موقع پر بھی نریندر مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان نمایاں فاصلہ دیکھا گیا۔ یہی مناظر سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کا حصہ بنے اور مختلف پلیٹ فارمز پر ان پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی اجلاسوں میں رہنماو¿ں کی باڈی لینگویج اور باہمی روابط اکثر توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں، جبکہ اس بار بھی ٹرمپ اور مودی کی ملاقات سے جڑی ویڈیوز نے خاصی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔





