مقبوضہ کشمیر: بھارتی انتظامیہ نے محکمہ بجلی کے کشمیری ملازم کو برطرف کردیا
مقامی ملازمین کی برطرفی کشمیریوں کو معاشی طورپر تباہ کرنے کی بھارتی حکومت کی پالیسی کا حصہ

سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی انتظامیہ نے پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (پی ڈی ڈی) کے ایک ملازم کو آزادی پسند تنظیموں کے ساتھ روابط کے الزام میں برطرف کر دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی سربراہ میں قائم انتظامیہ نے پی ڈی ڈی کے کشمیری ملازم 51سالہ محمد شفیع ملک کر برطرف کیا۔وہ ضلع اسلام آباد کے علاقے بیج بہاڑہ میں پی ڈی ڈی میں بطور انسپکٹر کام کر رہا تھا۔
یاد رہے کہ بی جے پی کی ہندو توا بھارتی حکومت نے اگست 2019میں مقبوضہ جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد آزادی پسند کشمیریوں کو انتقامی کارروائیوں کانشانہ بنانے کا سلسلہ تیز کر دیا ۔ کشمیری سرکاری ملازمین کو بھی مختلف حیلے بہانوں سے ملازمتوں سے برطرف کرنے کا سلسلہ شروع کیاگیا اور اب تک 5سو سے زائد ملازمین برطرف کیے جاچکے ہیں۔
ملازمین کو تحریکِ آزادی سے ہمدردی اور بھارت مخالف سرگرمیوں کا الزام عائد کر کے بغیر کسی تحقیقات کے نہ صرف جبری برطرف بلکہ پنشن وغیرہ سے بھی محروم کیا جاتا ہے۔ برطرف کیے جانے والے ملازمین کا تعلق مختلف شعبوںتعلیم، مقامی پولیس، صحت، اور انتظامی خدمات سے ہے۔مقبوضہ کشمیر کی ہائیکورٹ نے برطرفیوں کو چیلنج کرنے والی متعدد درخواستوں پر انتظامیہ کے حق میں فیصلے دیئے ہیں۔
ملازمین کی برطرفی دراصل کشمیریوں کو معاشی طور پر تباہ کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کی مودی حکومت کی پالیسی کا حصہ ہے۔ برطرف کیے جانے والے ملازمین کی جگہ بھارتی ہندو ملازمین تعینات کیے جا تے ہیں تاکہ علاقے میںہندو توا ایجنڈے کو آگے بڑھایا جاسکے۔






