ایران-امریکہ معاہدہدے سے پاکستان کا سفارتی قد مزیدبڑھ گیا: جے رام رمیش
کانگریس جنرل سیکریٹری کی مودی حکومت کی ناقص خارجہ پالیسی پر کڑ ی تنقید
نئی دلی: ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کیلئے طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت میں پاکستان کے اہم کردار اور بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے مودی حکومت کی ناقص خارجہ پالیسی پرکڑی تنقید کی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کانگریس کے سینئر رہنما اور جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کا مظہر ہے اور بھارت کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا ہے۔ ایکس پر جاری بیان میں جے رام رمیش نے کہا کہ معاہدے کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا نام دیے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان خطے کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ پاکستان علاقائی سفارت کاری میں نمایاں حیثیت حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔کانگریس رہنما نے کہا کہ اگر معاہدے پر مکمل عمل درآمد ہو تا ہے تو یہ خطے میں ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جائے گی۔کانگریس رہنما نے وزیراعظم نریندر مودی کی اسرائیل کے ساتھ قریبی وابستگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غزہ، لبنان اور مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات کی مسلسل حمایت بھارت کے طویل المدتی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔انہوں نے مودی حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں حد سے زیادہ نرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے، جو ان کے بقول بھارت کے قومی مفادات کے خلاف ہے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ حالیہ مودی-ٹرمپ ملاقات کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کا بیان بھی اسی طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو بھی اس معاہدے سے سیاسی طور پر متاثر ہونے والا فریق قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ جے رام رمیش کا دعوی تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی بعض معاملات پر اسرائیلی پالیسیوں سے ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں۔






