بھارتی فورسز نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران18کشمیریوں کو شہید کیا

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی مسلسل کارروائیوں میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران18کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے آج جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیر کے نہتے لوگوں پر بھارتی پولیس اورپیراملٹری فورسزکی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال سے کم از کم 44 شہری زخمی ہو گئے۔اس عرصے کے دوران بھارتی فوج، پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس، اسپیشل آپریشنز گروپ اور بدنام زمانہ تحقیقاتی اداروں سی آئی کے ، این آئی اے اورایس آئی اے نے محاصرے اور تلاشی کی 908 کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران 1131 سے زائد شہریوں کو گرفتار کیا ہے جن میں نوجوان، طلبائ،سیاسی کارکنان اور خواتین شامل ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت مقدمات درج کئے گئے۔ نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیر قیادت قابض انتظامیہ نے اپنے نوآبادیاتی ہتھکنڈوں کو تیز کرتے ہوئے مکانوں، زمینوں، دکانوں، اداروں اور گاڑیوں سمیت 185 جائیدادوں پر قبضہ کیا۔ یہ غیر قانونی کارروائیاںکشمیریوںکو معاشی طورپر کمزورکرنے اور ان کے سیاسی موقف اور آزادی کے مطالبے کو دبانے کی بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
دریں اثنا، بھارتی فورسزنے گزشتہ ماہ جون میں دو نوجوانوں کو شہید کیا جبکہ رامبن اور شوپیاں اضلاع میں دو لاشیں برآمد ہوئیں۔گزشتہ ماہ بھارتی فورسز نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما غلام محمد خان سوپوری، فاروق احمد توحیدی اورکئی خواتین سمیت کم از کم 63 افراد کو گرفتار کیا ۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، محمد ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معرالدین کلوال، فاروق احمد ڈار، ایڈووکیٹ شاہد الاسلام، ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم، ڈاکٹر حمید فیاض، مشتاق الاسلام، بلال صدیقی، مولوی بشیر عثمانی، فیاض حسین جعفری، ظفر اکبر بٹ، ایڈووکیٹ زاہد علی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، رفیق احمد گنائی، انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز اور درجنوںکشمیری نوجوان اورخواتین بدستور بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیرکی مختلف جیلوں میں نظر بند ہیں۔ان نظربندوں کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت حکومت سیاسی انتقام کانشانہ بنارہی ہے۔







