یاترا کی حفاظت کی آڑ میں جنگ جیسی مشقوں سے بھارت کے مذموم عزائم ظاہر ہوتے ہیں

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوج،پیراملٹری فورسز اور پولیس نے امرناتھ یاترا کی تیاریوںکی آڑ میں جنگ جیسی فرضی مشقوں کا ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس سے فوجی کارروائیوںاور ممکنہ فالس فلیگ آپریشنز کے حوالے سے مقامی لوگوں میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈاکٹر جی وی سندیپ چکرورتی نے ذاتی طور پر پانتہ چوک ٹرانزٹ کیمپ میں ایک جامع موک ڈرل کی نگرانی کی جہاں فدائین طرز کے حملوں، سڑک حادثات، امن و امان کی بگڑی ہوئی صورتحال، بڑے پیمانے پر انخلاءاور طبی ہنگامی صورتحال سمیت مختلف ہنگامی حالات سے نمٹنے کی مشقیں کی گئیں۔اسی طرح کی مشقیں پیراملٹری فورسز اور پولیس یونٹوں کے ساتھ مل کر بارہمولہ میں ریلوے اسٹیشن ہامرے پربھی کی گئیں۔مقامی باشندے اور سیاسی مبصرین بار بار کی جانے والی ان جنگی مشقوں کو 3 جولائی سے شروع ہونے والی یاترا سے پہلے مقبوضہ جموں وکشمیر پر فوجی قبضے کو مستحکم کرنے کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ مشقیں یاترا کے راستوں پر سینکڑوں سی سی ٹی وی کیمروں، ڈرونز، سنائپر ٹیموں اور ٹریکنگ سسٹمز کی تنصیب کے علاوہ ہےں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح سے بڑے پیمانے پر فوجیوں کی تعیناتی اور مسلسل فرضی مشقوں کا مقصد یاتریوں کی حفاظت نہیںبلکہ علاقے میںخوف ودہشت کی فضا پیدا کرنا اور فوجیوں کی موجودگی کوایک معمول کی کارروائی ظاہر کرنا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموںنے تشویش ظاہر کی ہے کہ یاترا کی سیکورٹی کی آڑ میں اس طرح کے اقدامات سے کشمیریوں کی نقل و حرکت اور معمولات زندگی پر مزید پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔








