بھارت :مغربی بنگال میں بیشتر مسلمان پسماندہ طبقات کی فہرست سے خارج

کولکتہ : بی جے پی کے زیر اقتدار بھارتی ریاست مغربی بنگال میں قانون ساز اسمبلی نے پسماندہ طبقات کے لئے ریزرویشن قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے دو بل منظورکرلئے جن کے تحت مسلمانوں کی کئی ذاتوں کو پسماندہ طبقات کی فہرست سے نکال دیا گیا اور ریزرویشن کوٹہ کو 17 فیصد سے کم کرکے 7 فیصد کردیا گیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پسماندہ طبقات کی ترقی کے وزیر گوری شنکر گھوش کی طرف سے پیش کیے گئے بل کو 294 رکنی ایوان میں 186 ارکان نے حق میں اور 17 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ چھ ارکان نے ووٹ نہیں ڈالا جبکہ ترنمول کانگریس کے باغی ارکان نے واک آوٹ کیا۔ گوری شنکرگھوش نے اسمبلی کو بتایا کہ سابقہ حکومت کی طرف سے کسی سروے کے بغیر صرف مسلمانوں کو ناجائز فائدہ پہنچانے کے لیے شامل کی گئی تمام کمیونٹیز کو فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ سروے کے بعد شامل صرف 66 کمیونٹیز کو برقرار رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ پچھلی فہرست میں 113 ذیلی گروپس تھے جن میں 77 مسلمان اور 36 غیر مسلم کمیونٹیز شامل تھیں۔ نظر ثانی شدہ فہرست میں جولاہ، فقیر، پہاڑیہ مسلم، حجام اور چودھولی جیسی مسلم کمیونٹیز کو برقراررکھا گیا ہے۔ گھوش نے کہا کہ مغربی بنگال کمیشن برائے پسماندہ طبقات اہلیت کا تعین کرنے اور جعلی اوبی سی سرٹیفکیٹس کو روکنے کے لیے ایک نیا سروے کرے گا۔ ریاستی وزیر نسیت پرمانک نے کہاکہ ترنمول کانگریس کی پچھلی حکومت نے مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے ہندوو¿ں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا تھا۔اپوزیشن جماعتوں اور اقلیتی نمائندوں نے اس اقدام پر تنقید کی۔ سی پی آئی ایم کے ریاستی سکریٹری محمد سلیم نے کہا کہ غریب پسماندہ مسلمانوں کو ریزرویشن کے فوائد سے محروم کیاگیا ہے۔ آئی ایس ایف کے رکن اسمبلی نوشاد صدیقی نے جلدبازی میں کئے گئے فیصلے پر تنقید کی ۔ناقدین نے خبردار کیا کہ یہ ترامیم ان ہزاروں لوگوں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتی ہیں جنہوں نے پہلے ہی او بی سی سرٹیفکیٹ حاصل کر رکھے ہیں یا تعلیم اور سرکاری ملازمت میں ریزرویشن حاصل کر چکے ہیں۔






