یاسین ملک کو 36 سال پرانے سرلا بھٹ قتل کیس میں ملوث کرنے کی مذمت
اسلام آباد:جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے غیر قانونی طور پر قید پارٹی چیئرمین محمد یاسین ملک کو 36 سال پرانے سرلا بھٹ قتل کے جھوٹے مقدمے میں ملوث کرنے کے بھارتی اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان اور محمد یاسین ملک کے خصوصی نمائندے محمد رفیق ڈار نے پارٹی کے سنٹرل انفارمیشن آفس سے جاری اپنے ایک اہم بیان میں کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں موجودہ انتہا پسند بھارتی حکومت جموں کشمیر کے مقبول آزادی پسند سیاسی رہنما محمد یاسین ملک کو سزائے موت دلوانے کے لیے ہر ممکن حربے استعمال کر رہی ہے اور اسی مقصد کے تحت انہیں ایسے مقدمات میں جھوٹے طور پر ملوث کیا جا رہا ہے جن سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ این آئی اے کی طرف سے دائر مبینہ ٹرر فنڈنگ پر مبنی مقدمہ، بھارتی فضائیہ اہلکاروں کے قتل و روبیہ سعید اغوا کیس کے علاوہ اسی نوعیت کے بے شمار دیگر مقدمات کے بعد اب بھارتی حکومت نے 36 سال پرانے سرلا بھٹ قتل کیس میں بھی محمد یاسین ملک اور ان کے قریبی ساتھیوں کے خلاف چارج شیٹ دائر کر دی ہے۔
محمد رفیق ڈار نے واضح کیا کہ محمد یاسین ملک، کا سرلا بھٹ کے بہیمانہ قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد یاسین ملک کے علاوہ لبریشن فرنٹ کے نامور رہنماو¿ں شہید شیخ عبد الحمید، شہید محمد یوسف المعروف ادریس اور شہید غلام محمد ٹپلو کو بھی اس گھناو¿نے جرم سے جوڑنا بھارت سرکار کا انتہائی شرمناک اقدام ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ عمل اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ نام نہاد جمہوری بھارت کشمیری عوام کی آزادی کی آواز اور ان کی مقبول قیادت کو خاموش کرانے کے لیے کس حد تک جا سکتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے محمد یاسین ملک اور لبریشن فرنٹ کے خلاف جاری منظم اور بدنیتی پر مبنی میڈیا مہم کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد کے حصول میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ایسے اقدامات نہ تو محمد یاسین ملک کی عوامی مقبولیت کو کم کر سکتے ہیں اور نہ ہی جموں کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے ان کی پرامن سیاسی جدوجہد کو بدنام کر سکتے ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری، مقامی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بالخصوص بھارت کی سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ محمد یاسین ملک کی جان کے تحفظ، خطے میں امن کے فروغ اور مسئلہ جموں کشمیر کے پرامن اور بامعنی مذاکراتی حل کے لیے اپنا مو¿ثر کردار ادا کریں۔سرلا بھٹ، جو سرینگر کے صورہ ہسپتال کے نرسنگ اسٹاف کی رکن تھیں، کو 18 اپریل 1990ءکو اغوا اور بعد ازاں 19 اپریل کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔






