پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے انفراسٹریکچر پر حملے سے متعلق بھارتی بیان مسترد کر دیا
بھارت کشمیریوں کے حق خودارادیت کو مسلسل دبا رہا ہے، ترجمان
اسلام آباد:ترجمان دفترِ خارجہ نے بھارتی وزارتِ خارجہ کے حالیہ بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد، من گھڑت اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان بھارتی پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد عناصر کے خلاف پاکستان کی کارروائیاں جائز، ہدفی (ٹارگیٹڈ) اور متناسب نوعیت کی ہیں، جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کی جاتی ہیں۔
یہ کارروائیاں پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد افغان صوبے پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں کی گئیں تھیں جن میں 29 دہشتگرد ہلاک ہوئے تھے۔ وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق ان کارروائیوں میں جماعت الاحرار اور فتنتہ الخوارج کی کمین گاہوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس دوران دہشت گردوں کے مراکز میں ذخیرہ کیا گیا بھاری تعداد میں اسلحہ و گولہ بارود بھی تباہ کر دیا گیا۔
ترجمان دفترِ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پڑوسی ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے کا بھارتی ریکارڈ پوری دنیا کے سامنے ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارت نے متعدد مواقع پر اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خطے کے امن کو خطرے میں ڈالا۔
دفترِ خارجہ نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو مسلسل دبانے میں مصروف ہے، جبکہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی بھی کر رہا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے ملک کا کردار ادا کر رہا ہے، اس لیے اس کے بے بنیاد الزامات اور اشتعال انگیز بیانات کو عالمی سطح پر کوئی اہمیت نہیں دی جانی چاہیے۔
بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اپنے شہریوں کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت ہر ممکن اور ضروری اقدام اٹھاتا رہے گا۔






