رام مندر چندہ گھوٹالہ : کانگریس کی بی جے پی اور آر ایس ایس پر شدید تنقید
بی جے پی کی سیاست"ووٹ چوری، سیٹ چوری اور چندہ چوری"پر مبنی ہے ، جئے رام رمیش
نئی دلی:بھارت میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت انڈین نیشنل کانگریس نے ایودھیا میں شہید بابری مسجد کی جگہ تعمیر کئے جانیوالے متنازعہ رام مندر کے چندے میں مبینہ گھوٹالے پر ہندتوابھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کوکڑی تنقید کا نشانہ بنایاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کانگریس کے جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے نئی دلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ رام مندر میں ہونے والا مبینہ چندہ گھوٹالہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے ایکو سسٹم کی پیداوار ہے۔انہوں نے کہاکہ اس سنگین معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی جنہوں نے اس مندر کا افتتاح کیاتھا اور وزیر داخلہ امت شاہ کی مجرمانہ خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔جئے رام رمیش نے مزیدکہا کہ بی جے پی کی سیاست تین نکات پر مبنی ہو گئی ہے، "ووٹ چوری، سیٹ چوری اور چندہ چوری”۔ ان کا کہنا تھا کہ رام مندر میں جمع ہونے والے ہزاروں کروڑ روپے کے عطیات کی چوری انتہائی سنگین معاملہ ہے اور اس کی تحقیقات سپریم کورٹ کے موجودہ جج کی نگرانی میں کرائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر آر ایس ایس کا حالیہ بیان نہایت افسوسناک اور شرمناک ہے۔انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی خاموشی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ رام مندر کی تعمیر اور افتتاح کا سیاسی کریڈٹ لینے والی بی جے پی قیادت کو اس معاملے پر بھی جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کے بیشتر ذمہ دار افراد بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ ہیں، اس لیے اعلی قیادت کی لاعلمی کے دعوے پر یقین نہیں کیا جاسکتا ۔
واضح رہے کہ اتر پردیش کی بی جے پی حکومت کی تشکیل کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی ابتدائی رپورٹ کے بعد 25جون کو چندہ گھوٹالے کے معالے میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق اب تک آٹھ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور تقریبا 80لاکھ روپے نقد رقم اور غیر ملکی کرنسی برآمد کی گئی ہے، جبکہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔






