مقبوضہ جموں و کشمیر

پلوامہ میں پینے کے پانی کی شدید قلت کے خلاف لوگوں کا احتجاج

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ضلع پلوامہ کے علاقے پنگلنہ میں خواتین سمیت لوگوں نے گزشتہ تین ماہ سے پینے کے پانی کی شدید قلت کے خلاف احتجاج کیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور ٹریفک روک دی۔مظاہرین نے باربار کی درخواستوں کے باوجود حکام کی جانب سے پینے کے پانی کی باقاعدہ فراہمی میں ناکامی کی مذمت کی۔بحران کی شدت اورلوگوں کو درپیش مشکلات کو اجاگر کرنے کے لیے خواتین خالی برتن اٹھائے ہوئے مظاہرے میں شامل ہوئیں۔احتجاجی مظاہرین نے کہا کہ پانی کی قلت نے معمولات زندگی کو درہم برہم کرکے رکھ دیا ہے۔علاقے کے ایک رہائشی غلام حسن گنائی نے کہا کہ ہمیں گزشتہ تین ماہ سے پانی کے بحران کا سامنا ہے، لیکن حکام نے ہماری بار بار کی درخواستوں پر کوئی توجہ نہیں دی۔انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ ہمارا مسئلہ متعدد درخواستوں کے باوجود حل نہیں ہوا ۔ مظاہرے میں شامل ایک خاتون نے کہا کہ علاقے میں پانی کے ٹینکر ہفتے میں صرف دو بار بھیجے جاتے ہیں جو سینکڑوں خاندانوں کے لیے ناکافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹینکروں کے ذریعے فراہم کیا جانے والا پانی زیادہ دیر تک نہیں چل پاتا۔ ہمیں عارضی انتظامات نہیں بلکہ پینے کے پانی کی باقاعدہ فراہمی کی ضرورت ہے۔مظاہرین نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد پانی کی قابل اعتماد سپلائی بحال کرے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button