بھارت

آرایس ایس ایک صدی بعد بھی غیر رجسٹرڈ، ہندو انتہاپسند تنظیم کے مذموم مقاصد کیا ہیں؟

تنظیم نے گزشتہ سال امریکہ میں لابنگ کیلئے لاکھوں ڈالرز خرچ کیے: امریکی جریدہ

واشنگٹن :  بھارت میں قائم غیررجسٹرڈہندو انتہاپسند تنظیم آرایس ایس کے پس پردہ مذموم عزائم سامنے آگئے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عالمی جریدے ”دی ڈپلومیٹ“ نے ہندوانتہا پسند تنظیم آرایس ایس کے اوچھے ہتھکنڈے بے نقاب کردیے۔ دی ڈپلومیٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق بی جے پی کو نظریاتی بنیاد اور تنظیمی پشت پناہی کرنے والی ہندو انتہاپسند تنظیم آر ایس ایس ایک صدی بعد بھی غیر رجسٹرڈ ہے۔رپورٹ کے مطابق آرایس ایس نہ تو خود کو ٹرسٹ اور نہ کوئی این جی او قرار دیتی ہے اسی لیے وہ مالیاتی اور دیگر سرکاری جانچ پڑتال اور ٹیکسز سے آزاد ہے، ہندوانتہاپسند تنظیم آرایس ایس پچھلے سال امریکہ میں لابنگ کیلئے 330,000 ڈالرز خرچ کر چکی ہے۔دی ڈپلومیٹ کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر کی عمارت 3.75 ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے جس میں 13 منزلہ تین ٹاورز ہیں، آرایس ایس کی بہت سی جائیدادیں مختلف افراد کے ناموں پر رجسٹرڈ ہیں۔ آرایس ایس اس لیے خفیہ کام کرتی ہے کیوں کہ اس کا اصل مقصد ایک انتہاپسند ہندو ریاست کا قیام ہے، آر ایس ایس آئین کو پامال کرنے، مسلمانوں سمیت اقلیتوں پر مظالم ڈھانے اور نفرت و انتشار کو فروغ دینے میں ملوث ہے۔ کانگریس کے رہنما پریانک کھرگے نے آرایس ایس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کریڈٹ لینے میں سب سے آگے ہیں تو آر ایس ایس اور بی جے پی کو کرپشن کا بھی حساب دینا ہوگا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button