مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی میں تاخیر سے آئندہ نسلوں کو نقصان پہنچے گا: نائب وزیراعلیٰ

سرینگر: بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نائب وزیراعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما سریندر چودھری نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی میں مزید تاخیر سے آئندہ نسلوں کے لیے سنگین نتائج ہوں گے۔۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرریندر چودھری نے ضلع سانبہ کے بڑی برہمانہ، وجے پور اور ضلع کٹھوعہ کے ہیرا نگر میں عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی "محض ایک سیاسی مطالبہ نہیں” بلکہ جمہوری اداروں کو بااختیار بنانے اور موثر گورننس کو یقینی بنانے کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔انہوں نے کہا کہ "مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کے بغیر ہر دن جموں و کشمیر کے مستقبل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہا ہے۔ مسلسل تاخیر نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کرے گی، جس سے ترقی سست ہوگی، جمہوری ادارے کمزور ہوں گے اور گورننس میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگی۔نائب وزیراعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کیلئے ایک مکمل طور پر بااختیار منتخب حکومت کی ضرورت ہے جو اپنے عوام کے مفاد میں آزادانہ فیصلے کرنے کی اہل ہو۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور اس کی اتحادی جماعتیں20 جولائی کو نئی دہلی میں جنتر منتر کے مقام پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے احتجاج کریں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ 12 جولائی کو جموں کے مہاراجہ ہری سنگھ پارک میں طے شدہ عوامی جلسے میں شرکت کریں۔






