بھارت

مودی کو دورہ انڈونیشیا، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں تاریخی سفارتی رسوائی کا سامنا

گودی میڈیا کے پروپیگنڈے کے برعکس عالمی میڈیا مکمل طورپر خاموش

اسلام آباد: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو انڈونیشیا، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے دورے میں تاریخی سفارتی رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی میڈیا کی پراپیگنڈا مشین کے برعکس میزبان ممالک اورعالمی میڈیا میں مکمل خاموشی طاری رہی۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انڈونیشیا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ کے دوروں میں مودی کو شدید سفارتی سبکی کا سامناکرناپڑا۔ عالمی میڈیا اور میزبان ممالک کی خاموشی نے بھارتی دعوں کو چیلنج کر دیا ہے۔ مودی کو دوروں کے دوران علاقائی میڈیا نے کوئی توجہ نہیں دی، انڈونیشین میڈیا میں مودی کی ڈگڈگی بجاتے ہوئے ویڈیو وائرل رہی، جکارتا گلوب اور کومپاس نے مودی کے لباس، گاڑیوں اور مندر کی تصاویر دکھائیں۔جکارتہ گلوب اور کومپاس جیسے معتبر ذرائع نے مودی کی سفارتکاری کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف ان کے لباس، گاڑیوں اور مندر کی تصاویر شائع کیں۔ انڈونیشین میڈیا میں مودی کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ ڈگڈگی بجاتے نظر آئے، جسے مقامی صارفین نے خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔ دی پرنٹ کے مطابق انڈونیشین میڈیا نے مودی کی سفارتکاری کے بجائے ان کی ذاتی تصاویر کو ترجیح دی۔میلبورن کے مارول اسٹیڈیم کے باہر الائنس اگینسٹ اسلاموفوبیا اور دیگر تنظیموں نے مودی کی فاشسٹ اور اقلیت دشمن پالیسیوں کے خلاف بھرپور مظاہرے کیے۔ اے بی سی اور دی گارڈین کے مطابق مسلم، سکھ اور انسانی حقوق کے گروپوں نے بھارتی حکومت پر ریاستی مظالم کا الزام عائد کیا۔خالصتان کے حامی بھی احتجاج میں شامل ہوئے اور مودی حکومت کے جرائم کو بے نقاب کیا۔ رائٹرز نے ان مظاہروں کو خاص کوریج دی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آسٹریلوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مودی کے سامنے بھارت میں جمہوریت کی صورتحال اور اقلیتوں پر مظالم کا معاملہ اٹھائے۔گرین لیفٹ کے مطابق مودی حکومت اقلیتوں، مسلمانوں، صحافیوں اور سیاسی مخالفین پر زمین تنگ کر کے جمہوریت کی قاتل بن چکی ہے۔آسٹریلوی اخبارات میں بھارتی صنعتکار نوین جندال کے کرپشن الزامات کی خبریں مودی کے دورے پر حاوی رہیں، جس سے بھارتی وفد کو شدید شرمندگی ہوئی۔نیوزی لینڈ کے وزیرخارجہ ونسٹن پیٹرز نے بھارت کے ساتھ مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے کو ملکی مفاد کے خلاف قرار دے دیا۔ مودی کی موجودگی کے باوجود پیٹرز کا بیرونِ ملک روانہ ہونا بھارتی وزیراعظم کے لیے ایک اور سفارتی توہین ثابت ہوا۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی میڈیا کی خاموشی اور میزبان ممالک کی جانب سے معمولی ردعمل نے مودی سرکار کے "عالمی اثرورسوخ” کے دعوئوں کو بے نقاب کر دیا ۔ بھارتی میڈیا نے ان دوروں کو کامیاب قرار دینے کی بھرپور کوشش کی، لیکن غیرملکی میڈیا نے اس بیانیے کو مسترد کر دیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی کی سفارتکاری میں سستی تشہیر اور پروپیگنڈا زیادہ دکھائی دیا، حقیقی کامیابی کہیں نظر نہیں آئی۔ مودی کے ناکام دورہ ایشیا پیسفک سے بھارتی سفارتی اثرورسوخ کے دعوئوں پر سوالیہ نشان اٹھ گئے ہیں۔بھارتی میڈیا نے مودی کے دوروں کو سفارتی کامیابی بنا کر پیش کرنے کی ناکام کوشش کی، لیکن غیرملکی میڈیا اور میزبان ممالک کی خاموشی نے ثابت کر دیا کہ مودی سرکار کے عالمی اثر و رسوخ کے جھوٹے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button