بھارت

فرانس میں مودی کی حفاظت کی آڑ میں ظالمانہ کارروائیاں،خالصتان نواز کارکن گرفتار

پیرس: بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے جی 7 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس پہنچنے پر17 جون 2026 کو فرانسیسی حکام نے خالصتان ریفرنڈم کے متعدد کارکنوں کو باقاعدہ فردِ جرم عائد کیے بغیر گرفتارکیا تاکہ ”ایمبش مودی پولیٹکس“ ریلی کو روکا جا سکے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ اقدام مودی کو پ±رامن احتجاج اور بین الاقوامی تنقید سے بچانے کے لیے فرانس کے تعاون کا مظہر تھا۔ فرانسیسی پولیس نے سکھز فار جسٹس (SFJ) کے جنرل کونسل گرپتونت سنگھ پنوں اور فرانس پہنچنے والے درجنوں دیگر کارکنوں کو گرفتارکیا۔تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ فرانس نے جمہوری حقوق کے تحفظ کے بجائے بھارتی دباو¿ کے آگے جھکتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کرنے والی آوازوں کو خاموش کیا۔”ایمبش مودی پولیٹکس“ مہم نے جی 7 رہنماو¿ں، بین الاقوامی میڈیا اور عالمی برادری کو یہ پیغام دیا کہ نریندر مودی ایک ایسی بھارتی حکومت کی قیادت کرتے ہوئے فرانس پہنچے جو جی 7 ممالک میں خالصتان نواز کارکنوں کے خلاف سرحد پار جبر اور بیرونِ ملک قتل کی کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔ ایس ایف جے نے فوری طور پر زیرِ حراست کارکنوں کے دفاع کے لیے فرانس کی ایک معروف قانونی فرم کی خدمات حاصل کیں۔ قانونی ٹیم نے فوری طور پر حراست میں لیے گئے افراد تک رسائی کا مطالبہ کیا، گرفتاریوں کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا اور فرانسیسی و بین الاقوامی قانون کے تحت خالصتان ریفرنڈم کی حمایت کے حق کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے۔17 جون کے واقعات نے مودی حکومت کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والے پر تشددواقعات کو ایک بارپھر اجاگر کیا جن میں بھارتی اہلکاروں کے ہاتھوں کینیڈا کی سرزمین پر ہردیپ سنگھ نجرکا قتل، برطانیہ میں اوتار سنگھ کھنڈا کی مشتبہ موت ،گرپتونت سنگھ پنوں کے خلاف نیویارک میں کرائے کے قاتل کے ذریعے قتل کی ناکام سازش، برطانیہ میں مقیم خالصتان ریفرنڈم کے منتظم پرمجیت سنگھ پمّاکے خلاف ٹارگٹڈ قتل کی سازش شامل ہیں۔17 جون 2026 کو پ±رامن مظاہرین کو حراست میں لینے کے فرانس کے فیصلے سے جمہوری ممالک پر بھارت کے اثر و رسوخ کی حد بے نقاب ہوگئی۔ اگرچہ مودی نے طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کریک ڈاو¿ن نے سچائی اور جوابدہی سے ان کی حکومت کے خوف کو مزید نمایاں کر دیا۔ خالصتان تحریک کے حامی اپنے عزم پر قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ گرفتاریاں اور دھمکیاں انصاف اور حقِ خودارادیت کے مطالبے کو نہیں روک سکتیں۔دنیا نے ایک بار پھر بھارت کے دباو¿ ڈالنے کے طریقہ کار کا مشاہدہ کیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button