مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگ انصاف سے مسلسل محروم ہیں ، حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ

اسلام آباد: کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ نے افسوس ظاہر کیا ہے کہ آج جب دنیا بھر میں انصاف کا عالمی دن منایا جا رہا ہے،بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے انصاف، آزادی اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔
کشمیر میڈ یا سروس کے مطابق حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی، سینٹر رہنماﺅں محمد فاروق رحمانی ، محمود احمد ساغر ،جنرل سیکرٹری ایڈوکیٹ پرویز احمد اور سیکرٹری اطلاعات امتیاز وانی نے عالمی یومِ انصاف کے موقع پر اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ کشمیری عوام عالمی سطح پر اپنے تسلیم شدہ حقِ خودارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن بھارت اس جائز اور منصفانہ مطالبے کو دبانے کے لیے ریاستی جبر، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور کالے قوانین کا سہارا لے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز کو کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت کے حاصل استثنیٰ کیوجہ سے مقبوضہ کشمیر میں قتلِ عام، جعلی مقابلے، دورانِ حراست شہادتیں، جبری گرفتاریوں، گھروں پر چھاپے روز کا معمول ہے۔ بھارتی حکومت این آئی اے اور دیگر تحقیقاتی اداروں کے ذریعے حریت قیادت، انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں اور عام شہریوں کو مسلسل انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گاو¿ کدل، چوٹہ بازار، زکورہ، ٹینگ پورہ، خانیار، چھٹی سنگھ پورہ، کپواڑہ، ہندواڑہ، سوپور، بجبہاڑہ، کشتواڑ، ڈوڈہ اور شوپیاں کے قتلِ عام، کنن پوش پورہ کی اجتماعی عصمت دری، شوپیان کے عصمت دری و دوہرے قتل کے واقعات اور کٹھوعہ میں کمسن بچی کے بہیمانہ قتل سمیت بے شمار سنگین جرائم کے متاثرین آج تک انصاف کے منتظر ہیں، جبکہ ان جرائم میں ملوث کسی بھی بھارتی فوجی یا اہلکار کو سزا نہیں دی گئی۔
حریت رہنماو¿ں نے کہا کہ اس وقت حریت رہنماﺅں سمیت ہزاروں کشمیری جیلوں اور عقوبت خانوں میں بند ہیں۔حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ کے رہنماﺅں نے اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، او آئی سی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں، ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں اور کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت دلانے کے لیے کردار ادا کریں۔





