سرینگر: ”این آئی اے” عدالت نے دس زیر حراست کشمیریوں کیخلاف جھوٹے مقدمے میں فرد جرم عائد کردی
مقدمے میں شامل دیگر مفرور ملزمان کی جائیدادوں کی ضبطی کا آغاز

سرینگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ( این آئی اے) کی ایک خصوصی عدالت نے ایک جھوٹے مقدمے میں زیر حراست 10کشمیر یوں کے خلاف فرد جرم عائد کر دی ہے۔ اس مقدمے کی تحقیقات سٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی ( ایس آئی اے ) کر رہی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ”ایس آئی اے ”نے یہ جھوٹا مقدمہ کل سولہ کشمیریوں کے خلاف 2022میں قائم کیا تھا ۔ جن میں سے دس کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن کے نام روبینہ نذیر ملک، اشفاق احمد میر، مدثر احمد پوسوال، محفوظ احمد مغل، محمد راشد ٹھاکر، محمد ریاض لوہار، جاوید اقبال ٹھاکر ، عبدالرشید میر، عبدالرشید بٹ اور بشارت علی پسوال معلوم ہوئے ہیں۔ ان دس کے خلاف فرد جرم دائر کی گئی ہے اور اب ان کے خلاف ٹرائل کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
دیگر ملزمان میں صغیر احمد پسوال ، ، طارق احمد ملک ، الف الدین بڈانہ ، مشتاق احمد نائیک ، فردوس احمد ڈار اور مشاق احمد ملک شامل ہیں۔ان میں سے پہلے پانچ افراد مفرور بتائے جاتے ہیں جبکہ آخری شخص مشتاق احمد ڈار کو بھارتی فورسز ایک کارروائی کے دوران شہید کر چکی ہیں۔بھارتی تحقیقاتی ادارے نے مفرور ملزمان کی جائیدادوں کی ضبطی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
”ایس آئی اے” نے ان تمام افراد پر منشیات فروشی میںملوث ہونے ، اس سے حاصل ہونیوالی آمدن تحریک آزادی کشمیرکو فروغ دینے پر صرف کرنے، بھارت کیخلاف جنگ چھیڑنے ، عسکری تنظیموںکی مالی مدد کرنے جیسے روایتی الزامات عائد کیے ہیں۔
آزادی پسند کشمیریوں کو مختلف بے بنیاد مقدمات میں ملوث کرنا اور برسہا برس تک سلاخوں کے پیچھے دھکیلنا بھارت کا ایک دیرینہ ہتھکنڈہ ہے جسکا مقصد انہیںخوف و دہشت کا شکار کر کے تحریک آزادی سے دوری اختیار کرنے پر مجبور کرنا ہے۔بھارت نے اس وقت حریت رہنمائوں اور کارکنوں سمیت تین ہزار سے زائد کشمیریوں کو مختلف جھوٹے مقدمات میں مقبوضہ جموںوکشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں اور عقوبت خانوں میں بند کررکھا ہے۔KMS/M






