سرینگر: شراب دکانوں کی رہائشی علاقوں میں منتقلی ناقابل قبول ہے۔میر واعظ

سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق نے علاقے میںجاری بھارتی ہندﺅں کی سالانہ امرناتھ یاترا کے پیش نظر شراب کی دکانوں کو سرینگر جموں شاہراہ سے پنتھا چوک کے رہائشی علاقوں میں منتقل کرنے کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق میرواعظ نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ علاقے کے ایک وفد نے ان سے ملاقات کی اور شراب کی دکانوں کی منتقلی پر اپنی شدید تشویش اور غم و غصہ کا اظہار کیا۔ انہوں نے یہ دکانیں گنجان آباد رہائشی علاقوں میں جہاں مساجد، تعلیمی اور مذہبی ادارے اور عوامی مقامات ہیں منتقل کی گئی ہیں اور یوں معاشرے کے اخلاقی تانے بانے بری طرح متاثر ہوں گے، جو کہ لوگوں کے لیے بالکل ناقابل قبول ہے۔میرواعظ نے کہا کہ یہ فیصلہ انتہائی پریشان کن اور ناقابل قبول ہے۔ اسلام واضح طور پر شراب کو حرام قرار دیتا ہے ۔
میرواعظ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے مسلم اکثریتی خطہ میں حکومت شراب کی دستیابی اور استعمال کو محدود کرنے کے اقدامات کرنے کے بجائے، معاشرے کے مذہبی کردار اور اخلاقی حساسیت کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے شراب کی دکانوں کو لوگوں کے گھروں کے قریب لا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اپنے معاشرے میں شراب کے فروغ اور معمول کو قبول نہیں کریں گے۔ "ہم نے ماضی میں کشمیر میں شراب کے پھیلاو کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور ہم اسے جاری رکھیں گے۔ شراب افراد کو تباہ کرتی ہے، خاندانوں کو توڑتی ہے، نوجوانوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور معاشرے کے اخلاقی اور سماجی تانے بانے کو کمزور کرتی ہے۔ میرواعظ نے کہاکہ اگر امرناتھ یاترا کے مذہبی تقدس کی وجہ سے یاتریوں کے راستے میں شراب کی دکانوں کو نامناسب سمجھا جاتا ہے، تو انہیں ایسے رہائشی علاقوں میں منتقل کرنا کس طرح جائز سمجھا جا رہا ہے جہاں ایسے خاندان رہائش رکھتے ہیں جن کا مذہب سختی سے شراب نوشی سے منع کرتا ہے۔
میر واعظ نے کہا کہ وفد نے انہیں بتایا کہ پانتھا چوک کے متاثرہ علاقے کے تمام لوگوں نے شراب کی دکانوں کی منتقلی کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور انہوں نے مکینوں کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا ہے۔







