مقبوضہ جموں وکشمیر: نوجوان کے قتل کیخلاف ڈوڈہ، کشتواڑ اضلاع میں ہڑتال
احتجاجی مظاہرے ،لواحقین کا انصاف کی فراہمی ، مجرم بھارتی اہلکاروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

جموں: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں ضلع ڈوڈہ میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں ایک نوجوان عارف حسین کے بہیمانہ قتل کیخلاف آج ڈوڈہ اور کشتواڑ اضلاع میں مکمل ہڑتال ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ہڑتال کی کال مرکزی جامع مسجد کشتواڑ اور انجمن اسلامیہ بھدرواہ نے دی ہے۔ دونوں اضلاع کے بیشتر علاقوں میں بازار، کاروبارری و تعلیمی ادارے اور ٹرانسپورٹ بند ہیں۔
بھارتی پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ کے اہلکاروں نے 30سالہ عارف حسین کو ضلع ڈوڈہ کے علاقے بھدرواہ میں محاصرے اور تلاشی کی کاررووائی کے دوران اندھا دھند فائرنگ کر کے شہید کیاتھا۔ عارف حسین کے بہیمانہ قتل کیخلاف علاقے میں زبردست احتجاجی مظاہرے کیے گئے ۔بھدرواہ جامع مسجد کے باہر سینکڑوں لوگوں نے جمع ہو کر احتجاجی مارچ نکالا اور قابض بھارتی انتظامیہ کے خلاف نعرے لگائے اور مجرم اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج، عدالتی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
عارف حسین کی موت کی خبر پھیلتے ہی غمزدہ خاندان کے افراد اور گاو¿ں والوں نے بھالا کے مقام پر ڈوڈہ بھدرواہ رسڑک بلاک کرکے احتجاج کیا، جس سے کئی گھنٹوں تک ٹریفک کی آمد ورفت معطل رہی اور شاہراہ کے دونوں طرف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ سڑک پر دھرنا جمعہ کی شام تک جاری رہا۔
بھارتی انتظامیہ نے لوگوں کو علاقے کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں ایک دوسرے کو معلومات کی فراہمی اور نوجوان کے قتل پر احتجاجی مظاہرو ں کو پھیلنے سے روکنے کیلئے ضلع ڈوڈہ میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے اور بڑی تعداد میں بھارتی فورسز اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔






