مضامین

19 جولائی — قرارداد الحاقِ پاکستان

کشمیری قوم کے اجتماعی شعور، تاریخی بصیرت اور نظریاتی وابستگی کا ابدی اعلان

مشتاق احمد بٹ

تاریخِ اقوام میں بعض دن محض کیلنڈر کی تاریخ نہیں ہوتے بلکہ وہ قوموں کے اجتماعی شعور، سیاسی فکر، قومی شناخت اور مستقبل کے تعین کی علامت بن جاتے ہیں۔
19 جولائی 1947 بھی ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایسا ہی ایک عظیم اور ناقابلِ فراموش دن ہے، جب کشمیری عوام کی نمائندہ سیاسی قیادت نے اپنی اجتماعی دانش، تاریخی ادراک اور قومی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قراردادِ الحاقِ پاکستان منظور کی۔
یہ فیصلہ کسی وقتی جذبات، سیاسی دباؤ یا عارضی مصلحت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسے قومی شعور کا اظہار تھا جو صدیوں پر محیط تہذیبی، مذہبی، ثقافتی، جغرافیائی اور تاریخی رشتوں سے تشکیل پایا تھا۔

19 جولائی 1947 کو سری نگر کے علاقے آبی گزر میں غازیٔ ملت سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر ریاست جموں و کشمیر کی نمائندہ مسلم قیادت کا ایک تاریخ ساز اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں متفقہ طور پر قراردادِ الحاقِ پاکستان منظور کی گئی، جس کے ذریعے کشمیری عوام نے دنیا کے سامنے اپنے سیاسی مستقبل، قومی شناخت اور نظریاتی وابستگی کے بارے میں ایک واضح، دوٹوک اور غیر مبہم مؤقف اختیار کیا۔ یہ قرارداد محض ایک سیاسی دستاویز نہیں بلکہ کشمیری قوم کے اجتماعی ارادے، قومی احساس اور تاریخی سمت کا باوقار اعلان تھا

اس تاریخی فیصلے کی سب سے منفرد اور غیر معمولی خصوصیت یہ ہے کہ یہ قرارداد پاکستان کے باضابطہ قیام سے قبل منظور کی گئی۔ یہ حقیقت اس امر کی روشن دلیل ہے کہ کشمیری عوام نے کسی وقتی سیاسی تبدیلی کے زیرِ اثر نہیں بلکہ مکمل سیاسی ادراک، دوراندیشی اور قومی بصیرت کے ساتھ پاکستان کو اپنی فطری منزل قرار دیا۔ ان کے اس فیصلے کی بنیاد جغرافیائی قربت سے کہیں بڑھ کر مشترکہ مذہبی اقدار، تہذیبی ہم آہنگی، ثقافتی وابستگی، تاریخی روابط، معاشی مفادات اور تمدنی یکسانیت پر استوار تھی۔

1947 میں برصغیر کی تقسیم دو قومی نظریے کے اصول پر عمل میں آ رہی تھی، جس کے مطابق مسلم اکثریتی علاقوں کو پاکستان کا حصہ بننا تھا۔ ریاست جموں و کشمیر نہ صرف ایک مسلم اکثریتی ریاست تھی بلکہ اس کے زمینی راستے، تجارتی روابط، دریائی نظام، معاشی ڈھانچہ، ثقافتی شناخت اور سماجی رشتے بھی قدرتی طور پر پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ یہی وہ تاریخی، جغرافیائی اور نظریاتی عوامل تھے جنہوں نے 19 جولائی کی قرارداد کو مضبوط اخلاقی، سیاسی اور تاریخی بنیاد فراہم کی۔

بین الاقوامی قانون کے تناظر میں بھی کشمیری عوام کے مؤقف کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ حقِ خودارادیت (Right of Self-Determination) اقوام کے بنیادی اور مسلمہ حقوق میں شمار ہوتا ہے، جسے اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 1(2) میں بنیادی اصول کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ مزید برآں، ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں، خصوصاً قرارداد نمبر 47 (1948)، اس امر کو تسلیم کرتی ہیں کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی آزادانہ خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ اس تناظر میں 19 جولائی 1947 کی قرارداد کشمیری عوام کے اجتماعی سیاسی مؤقف اور ان کی قومی امنگوں کے اولین اور واضح اظہار کی تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔

یہ قرارداد اس حقیقت کی بھی عکاس ہے کہ کشمیری قیادت نے غیر معمولی سیاسی بصیرت کے ساتھ یہ ادراک کر لیا تھا کہ پاکستان ہی کشمیری مسلمانوں کی تہذیبی، مذہبی، تاریخی اور تمدنی شناخت کا فطری مرکز ہے۔ دفاعی تقاضوں، معاشی استحکام، جغرافیائی حقیقتوں اور سماجی روابط کے اعتبار سے بھی ریاست جموں و کشمیر کا قدرتی رشتہ پاکستان کے ساتھ تھا، اور یہی عوامل اس فیصلے کو ایک مضبوط نظریاتی اور عملی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

بعد ازاں پیش آنے والے تاریخی واقعات نے بھی اس فیصلے کی معنویت کو مزید نمایاں کیا۔ اگرچہ بھارت نے خود کو ایک سیکولر ریاست کے طور پر پیش کیا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ کشمیری عوام نے سیاسی جبر، اظہارِ رائے پر قدغن، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، آبادیاتی تبدیلیوں اور عسکری دباؤ جیسے متعدد سنگین مسائل کا سامنا کیا۔ ان حالات نے کشمیری عوام کے اس تاریخی مؤقف کو مزید تقویت دی کہ ان کی شناخت، خواہشات اور مستقبل کا فیصلہ ان کی اپنی آزادانہ رائے کے مطابق ہونا چاہیے۔

یہ ایک ناقابلِ انکار تاریخی حقیقت ہے کہ کشمیری قوم نے پاکستان کے قیام سے قبل ہی اپنے مستقبل کی سمت کا تعین کر لیا تھا۔ اسی حقیقت نے ایک ایسا مقولہ جنم دیا جو آج کشمیری قومی شعور کی نمائندگی کرتا ہے:

"کشمیری پاکستانیوں سے پہلے کے پاکستانی ہیں۔”

یہ محض ایک جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت کا خلاصہ ہے، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب برصغیر کے کئی علاقوں میں سیاسی مستقبل ابھی زیرِ بحث تھا، اس وقت کشمیری قیادت اپنی قومی منزل کا فیصلہ کر چکی تھی۔

27 اکتوبر 1947 کے بعد رونما ہونے والے واقعات نے ریاست جموں و کشمیر کو ایک طویل بین الاقوامی تنازع میں تبدیل کر دیا، لیکن اس کے باوجود کشمیری عوام نے اپنے 19 جولائی 1947 کے تاریخی فیصلے سے کبھی دستبرداری اختیار نہیں کی۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران بے شمار جانوں کی قربانیاں، طویل اسیریاں، جبری گمشدگیاں، انسانی حقوق کی پامالیاں اور مسلسل مشکلات اس حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ کشمیری عوام اپنی قومی شناخت، اجتماعی شعور اور تاریخی مؤقف پر ثابت قدم ہیں۔

اسی لیے 19 جولائی کشمیری قوم کے لیے صرف ایک یادگار دن نہیں بلکہ عہدِ وفا کی تجدید، نظریاتی وابستگی کے اعادے، شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور قومی عزم کی تجدید کا دن ہے۔ یہ دن اس بات کی علامت ہے کہ قومیں اپنی شناخت، اپنے اجتماعی فیصلوں اور اپنے اصولی مؤقف کے ذریعے زندہ رہتی ہیں، اور کشمیری قوم نے اس تاریخی فیصلے کو اپنی قومی تاریخ کا دائمی حوالہ بنا دیا ہے۔

آج، جب مسئلۂ کشمیر بدستور عالمی ضمیر کے سامنے ایک اہم سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے، 19 جولائی 1947 کی روح پہلے سے کہیں زیادہ زندہ اور مؤثر محسوس ہوتی ہے۔ یہ دن دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ کشمیری عوام نے اپنی سیاسی شناخت اور مستقبل کے بارے میں اپنا مؤقف تاریخ کے ایک نازک ترین موڑ پر واضح کر دیا تھا، اور یہ مؤقف آج بھی ان کے قومی شعور، اجتماعی حافظے اور سیاسی جدوجہد کا بنیادی ستون ہے۔

19 جولائی صرف ماضی کی ایک تاریخ نہیں، بلکہ امید، استقلال، وفاداری، قومی شعور اور تاریخی تسلسل کی علامت ہے۔ یہ کشمیری قوم کے اس اٹل یقین کی ترجمانی کرتا ہے کہ قومیں اپنی تاریخ، اپنے نظریے، اپنے اجتماعی فیصلوں اور اپنی شناخت سے زندہ رہتی ہیں، اور یہی وہ اقدار ہیں جو نسل در نسل آزادی، وقار اور خودشناسی کی جدوجہد کو زندہ رکھتی ہیں۔

مشتاق احمد بٹ

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button