بھارت

اتر پردیش: عدالت نے دہائیوں پرانی مسجد گرانے کا حکم دیدیا، مسلم تنظیموں کا سخت ردعمل

لکھنو :ریاست اتر پردیش کے ضلع سہارنپور کے کلکٹر احاطہ میں گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے موجود ایک مسجد کوعدالت نے گرانے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے مسجد کے منتظمین پر چھ کروڑسے زائد روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مسجد کو گرانے کا حکام سٹی مجسٹریٹ کلدیپ سنگھ کی عدالت نے جاری کیا ۔ اس حوالے سے عدالت میں عرضداشت ہندو توا تنظیم بجرنگ دل کے سابق ریاستی کوآرڈینیٹر وکاس تیاگی نے دائر کی تھی ۔ عدالت نے عرضداشت کی سماعت کے بعد مسجد کو منہدم کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ سرکاری دفتر کی سلامتی اور رازداری کے پیش نظر یہ تعمیر برقرار نہیں رکھی جاسکتی۔عدالت نے مسجد کے منتظمین پر 6.41کروڑ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ۔
عدالت کے اس فیصلے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے ۔ سہارنپور سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے انہدامی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسجد نجی زمین پر واقع ہے ، نہ مناسب سماعت کا موقع دیا گیا اور نہ ہی جواب داخل کرنے کیلئے لازمی پندرہ دن کا نوٹس دیا گیا ۔مسجد کمیٹی نے بھی عدالتی فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کو عالی عدالت میں چیلنج کرے گی۔ مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ مسجد بھارت کی آزادی سے بھی پہلے موجود تھی لہذا اسے غیر قانونی قرار دینا درست نہیں ہے

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button