بھارت

اقوام متحدہ کے ماہرین کابھارت سے آسام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ

 

نئی دہلی : اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آسام میں ایک سیاحتی منصوبے کے خلاف احتجاج کرنے کے بعد گرفتار کیے گئے انسانی حقوق کے پانچ مقامی کارکنوں کو رہا کرے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اقوام متحدہ کے ماہرین نے خبردارکیاہے کہ ان کی گرفتاری سے اپنی زمین، ماحول اور انسانی حقوق کا دفاع کرنے کے حوالے سے مقامی کمیونٹیز کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ماہرین نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ کارکنوں کو صرف اور صرف کازرنگا نیشنل پارک کے قریب مجوزہ سیاحتی منصوبے سے متاثرہ مقامی کمیونٹیوں کی وکالت کرنے پر گرفتارکیاگیا ہے۔پرنب ڈولی، راجیب پیگو، برجیت کٹم، امیت ناگ اور بھاسکر سائکی سمیت انسانی حقوق کے پانچوں کارکنوں کو 29 جون کو انگلے پتھر میں مجوزہ سیاحتی منصوبے کے خلاف احتجاج میں حصہ لینے پر آسام پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ماہرین نے ان رپورٹوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ گرفتاریوں میں ملوث پولیس یونٹ کو پہلے ہیتشدد اور دیگر اقسام کے غیر انسانیسلوک کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ماہرین نے بھارتی حکام پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ حراست میں لیے گئے کارکنوں کے ساتھ عزت کے ساتھ پیش آیاجائے اور دوران حراست ان کے قانونی حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر ان پانچوں کارکنوں کو صرف پرامن طریقے سے اپنے بنیادی حقوق کے استعمال کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ سیاحتی منصوبے سے متعلق زمین کے حصول اور تعمیرات کو اس وقت تک روک دیں جب تک کہ مقامی برادریوں سے بامعنی مشاورت نہیں کی جاتی اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات کے مطابق ان کی رضامندی حاصل نہیں کی جاتی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button