سرینگر جموں شاہراہ بدستوربند، 1ہزارکے لگ بھگ گاڑیاں پھنس ہوئی ہیں
امرناتھ یاترا بدستور معطل ،15 ہزارسے زائد یاتری درماندہ..مختلف واقعات میں29افراد کی جانیں ضائع

سرینگر :
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں موسم کی شدید خرابی کے باعث سرینگر جموںشاہراہ گاڑیوں کی آمد رفت کیلئے مسلسل بند ہے اور شاہراہ کے مختلف مقامات پر 1ہزار کے لگ بھگ گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔ بھارتی ہندوﺅںکی سالانہ امرناتھ یاترا بھی 19جولائی سے بدستور معطل ہے اور جموں ، کٹھوعہ ، سانبا ، ادھمپور ، رام بن اور بانیہال کے بیس کیمپوں اور قیام گاہوںمیں 15ہزار سے زیادہ یاتری یاترا دوبارہ شروع ہونے کے انتظار میں ہیں ۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق انتظامیہ نے بتایا کہ سرینگر جموں شاہراہ کے مختلف مقامات پر تازہ پسیاں ، مٹی کے تودے اور بڑے بڑے پتھر گر آنے کے باعث بحالی کے کام میں شدید دشوار ی کا سامنا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ بحالی کا کام جاری ہے لیکن مسلسل بارش ملبہ ہٹانے اور مرمت کے کاموں میں رکاوٹ بن رہی ہے ۔ شاہراہ بند ہونے کے باعث رام بن، نگروٹہ ، ادھمپور ، لکھن پور اور سانبا میں ایک ہزار سے زائد گاڑیوں پھنسی ہوئی ہیں۔
دریں اثنا مقبوضہ علاقے کے مختلف مقامات پر بادل پھٹنے اور اسکے نتیجے میں پیداہونے والی سیلابی صورتحال کے سبب شدید تباہی مچی ہے۔مختلف واقعات میں اب تک کم ازکم 29افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ درجنوں افراد زخمی اور بے گھر ہوچکے ہیں۔ سب سے زیادہ تباہی جموں خطے کے پونچھ اور راجوری اضلاع میں ہوئی ہے ۔ پونچھ کے خوبصورت مقام سرنکوٹ میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں بادل پھٹنے کی قدرتی آفت کے نتیجے میں پہاڑوں سے آنے والے پانی کے شدید بہاﺅ اور مٹی کے تودے گرنے سے متعدد بستیاں لپیٹ میں آگئیں۔





