بھارت

دلی میں”این ایس اے” کا استعمال کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے، ایمنسٹی انٹر نیشنل

نئی دلی: ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کیطرف سے نیشنل سیکورٹی ایکٹ( این ایس اے )کے تحت اختیارات استعمال کرنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام بنیادی حقوق کیخلاف ہے اور دارالحکومت میں جاری کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی ) کے احتجاج کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق این ایس اے پولیس کو بغیر کسی الزام یا مقدمے کے افراد کو 12 ماہ تک حراست میں رکھنے کی جازت دیتا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا بورڈ کے سربراہ Aakar Patelنے کہا کہ این ایس اے کا استعمال انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس سے دہلی کی صورتحال مزید بھڑکنے کا خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پولیس کو بلاجواز طور پر لوگوں کو حراست میں لینے کے لیے صوابدیدی اختیارات دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زیر حراست افراد کو ایڈوائزری بورڈ کے سامنے قانونی نمائندگی سے انکار کیا جا سکتا ہے اور انہیں 15 دن تک حراست میں رکھنے کی وجوہات سے آگاہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اس دعوے کہ یہ اقدام محض ایک معمول کا انتظامی اقدام تھا، مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسی طرح کے اختیارات کا پہلے بھی اختلاف رائے کو دبانے کے لیے ستعمال کیا گیا ہے ، ۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ جمہوری معاشرے میں اس طرح کے غیر معمولی اختیارات کی کوئی جگہ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج انسانی حق ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انتظامی حراست کے خلاف اپنی مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فوجداری نظامِ انصاف کو درہم برہم کرتا ہے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button