بھارتی وزیر تعلیم کی برطرفی آرایس ایس کے ہندوتوا تعلیمی ایجنڈے کیلئے بڑا دھچکہ

نئی دہلی:بھارت میں انتہا پسند مودی حکومت تعلیم سمیت عوامی زندگی کے تمام شعبوں کوہندوتوا نظریے کے تحت ڈھالنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی نوجوانوں کی ذہن سازی کے لئے آر ایس ایس کو وزیرِ تعلیم کے استعفے سے بڑی پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی جریدے” دی وائر“ نے آرایس ایس کے مذموم ایجنڈے کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت میں دھرمیندرپردھان آرایس ایس کے وسیع ترہندوتواتعلیمی منصوبے کا اہم کرداربن چکے تھے۔ پردھان کی برطرفی نہ صرف بی جے پی بلکہ آر ایس ایس کے طویل مدتی ایجنڈے کے لیے بھی بڑی ناکامی ہے۔طویل عرصہ مودی کے وزیرتعلیم رہنے والے آرایس ایس سے وابستہ پردھان کو سنگھ پریوارکا تعلیمی ایجنڈا نافذ کرنا تھا۔ مودی کے دور حکومت میں آرایس ایس کے نظریاتی ایجنڈے کے تحت ترقی کو تعلیم کے بجائے ہندو انتہا پسندی سے مشروط کردیا گیا۔بھارتی اپوزیشن لیڈ رراہول گاندھی بھی مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ بی جے پی اورآرایس ایس اتحاد نظام تعلیم اوراداروں کو کمزورکرنے کی سازش کررہا ہے۔بھارتی ماہرتعلیم مردولا مکھرجی کے مطابق ہندوتوا حکومت نے تعلیمی اداروں میں اپنے حامی افراد مقررکرکے اپنے نظریاتی ایجنڈے پرکنٹرول مضبوط کیا۔ بھارتی وزیرتعلیم کا استعفیٰ بھارتی نظام تعلیم کی خامیوں اور مودی حکومت کے انتہا پسند ایجنڈے کو سامنے لے آیا ہے۔






