مقبوضہ جموں وکشمیر میں سیاحت کو فروغ دینے کی آڑ میں ماحولیات کو تباہ کیا جارہا ہے
غیر قانونی تعمیرات میں سے 90 فیصد گزشتہ 6سال میں تعمیر ہوئیں: گورنر کا اعتراف

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں اندھادھند غیر قانونی تعمیرات سے نازک ماحولیاتی نظام خطرے سے دوچارہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ حال ہی میں پہلگام کے مضافاتی علاقے آﺅرہ کے ہوٹلوں میں ٹھہرے ہوئے سیاح اس وقت بال بال بچے جب اچانک بادل پھٹنے کے بعد سیلابی پانی ان کے کمروں میں داخل ہو گیا اور انہیں اندھیرے میں ہی اپنی جانیں بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی طرف بھاگنا پڑا۔ اس اچانک سیلاب کے باعث آﺅرہ نالے سے آنے والے مٹی اور ملبے کے ریلے نے گاڑیوں اور مکانات کو شدید نقصان پہنچایا۔دریائے لدر کے کنارے بنے یہ ہوٹل ان پانچ ہزار سے زائد تجارتی املاک میں شامل ہیں جن کی تعمیر گزشتہ چھ برسوں کے دوران ہوئی ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے حال ہی میں ایک بیان میں اعتراف کیا کہ یہ سچ ہے کہ سال 2021 اور 2025کے درمیان تعمیر ہونے والے 5000 سے زائد ہوٹلوں میں سے 90 فیصد غیر قانونی ہیں۔ واضح رہے کہ انہوں نے سال 2019 میں دفعہ370 کی منسوخی کے ایک سال بعد گورنر کا عہدہ سنبھالا تھا۔
کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے جنرل سیکرٹری فیاض بخشی کا کہناہے کہ بڑے پیمانے پر ہونے والی ان غیر قانونی تعمیرات کی باقاعدہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہزاروں غیر قانونی تعمیرات کی اجازت کس نے دی؟ یہ غیر قانونی ہوٹل قدرتی آفات کو دعوت دے رہے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ندی نالوں اور آبی ذخائر کے کناروں پر تعمیر کیے گئے ہوٹلوں میں سیلابی پانی داخل ہو رہا ہے۔ انہوں نے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ غیر قانونی عمارتیں ہوٹلوں اور گیسٹ ہاو¿سز کی آڑ میں کھڑی کی گئی ہیں۔سال 2023 اور 2025 میں قابض حکام نے پہلگام میں ایسی سینکڑوں غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کی تھی لیکن ان غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کرنے والے افسران کو ہی ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں اندھادھند غیر قانونی تعمیرات سے نازک ماحولیاتی نظام خطرے سے دوچار ہے اورقابض حکام کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ سرکاری اعدادوشمارکے مطابق دفعہ 370کی منسوخی کے بعدترقی اورخوشحالی کے بلندو بانگ دعویٰ کرنے والی مودی حکومت کے مسلط کردہ گورنر کے اس اعتراف سے کہ غیرقانونی طورپر تعمیر کئے 5000ہوٹلوں میں سے 90فیصد ان کے دور میں تعمیر کئے گئے ، یہ سازش بے نقاب ہوئی ہے کہ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں سیاحت کو فروغ دینے کی آڑ میں ماحولیاتی توازن کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ حکومت کی اپنی دستاویزات کے مطابق ان تعمیرات نے نہ صرف علاقے کو تباہ کر دیا ہے، بلکہ مقامی ماحول پر بھی دباو¿ بڑھا دیا ہے جس سے سنگین ماحولیاتی نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ تعمیرات سے متعلق ضوابط پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے کثیر المنزلہ عمارتیں شدید خطرے کی زد میں ہیں۔ یہ خطرہ اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ یہ عمارتیں زلزلہ کے لحاظ سے انتہائی حساس علاقے میں واقع ہیں اور ان میں سے کچھ قدرتی سیلابی راستوں یا آبی نکاسی کے نالوں پر بنائی گئی ہیں۔ پہلگام میں بڑے پیمانے پر ہونے والی غیرقانونی تعمیرات سے پریشان ایک طالب علم رہنما ساحل پرے نے مئی 2026 میں ایک آر ٹی آئی درخواست دائر کی جس میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہوٹلوں کی تعمیر سمیت سیاحتی انفراسٹرکچر کی تفصیلات طلب کیں۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ حکام بغیر کوئی جواب دیے ان تفصیلات کو چھپا رہے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ غیر قانونی تعمیرات صرف سیاحتی مقامات تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ سرینگر میں نوگام، صنعت نگر،حیدرپورہ،ٹینگو پورہ بائی پاس پر تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مالز اور ہوٹلوں کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔






