بھارت

بھارت خواتین کے لیے دنیا کاسب سے زیادہ خطرناک ملک ہے

اسلام آباد: بھارت خواتین کے لیے محفوظ نہیں ہے کیونکہ بھارت میں خواتین کے تحفظ کے حوالے سے خدشات ایک اہم مسئلہ ہیں جبکہ جنسی تشدد کے مسلسل واقعات، ہراسانی اور بین الاقوامی ٹریول ایڈوائزیزسے مسئلے کی سنگینی نمایاں ہوتی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 22 جولائی 2026 کوریاست مدھیہ پردیش کے علاقے ستنا سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ طالبہ کواترپردیش میں چتراکوٹ کے جنگلاتی علاقے دیونگانہ وادی میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔وہ ایک خوبصورت سیاحتی مقام پر گئی تھی جہاں تین افراد نے خود کو محکمہ جنگلات کے اہلکار ظاہر کرکے اسے پہاڑی سے پھینکنے کی دھمکی دے کر عصمت دری کا نشانہ بنایا۔یہ اس طرح کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کو اکثر بھار ت میں اسی حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مارچ 2025 میں کرناٹک کے علاقے ہیمپی میںیونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے قریب ایک 27 سالہ اسرائیلی سیاح اور ایک بھارتی ہوم اسٹے آپریٹرکو تین افراد نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ مجرموں نے مردوں کو پانی میں دھکیل دیا جسے ایک بھارتی سیاح ڈوب گیا۔تینوں مجرموں کو بعد میں موت کی سزا سنائی گئی لیکن نقصان ہوچکاتھا،اگلے ہی دن سیاح علاقہ چھوڑکر چلے گئے۔مارچ 2024 میں سات افراد نے جھارکھنڈ میں اس وقت ایک ہسپانوی خاتون کی اجتماعی عصمت دری کی جب وہ اپنے شوہر کے ساتھ نیپال کی طرف سفر کر رہی تھی۔ دونوں کو مارا پیٹا گیا اور لو ٹا گیا۔جون 2025 میں ادھے پور میں ایک فرانسیسی سیاح کو پارٹی میں لالچ دے کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ وہ واقعات ہیں جو مشہور سیاحتی مقامات پر یا ان کے قریب پیش آئے۔ بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 2022 میں عصمت دری کے 31,516 کیس رپورٹ ہوئے جو ہردن تقریباً 86 کیس یا ہر 16سے17 منٹ میں ایک کیس بنتا ہے۔ 2023 میں 29,670 اور 2024 میں 29,536 کیسز رپورٹ ہوئے۔زیادہ تر رپورٹ شدہکیسز میں معروف مجرم ملوث ہیں، لیکن عوامی مقامات پر سیاحوں اور خواتین پر نامعلوم افرادکے حملے جاری ہیں۔ پولیس کی بے حسی اور خوف کی وجہ سے رپورٹ ہونے والے کیسز انتہائی کم ہیں۔حالیہ برسوں میں خواتین کے خلاف جرائم مجموعی طور پر 4.4 لاکھ سالانہ سے تجاوز کر گئے ہیں۔16 جون 2025 کوامریکی محکمہ خارجہ نے بھارت کے لیے اپنی لیول-2 ایڈوائزری کو دوبارہ جاری کیا جس میں واضح طور پرخبردارکیاگیا ہے کہ اکیلے سفر نہ کریں، خاص طور پر اگر آپ خاتون ہیں۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ عصمت دری بھارت میں سب سے تیزی سے بڑھتے ہوئے جرائم میں سے ایک ہے اور جنسی حملے سیاحتی مقامات پر ہوتے ہیں۔اسی طرح کی ایڈوائزری دیگر ممالک نے بھی جاری کی ہے۔سب سے زیادہ خطرے والے علاقوں میں مشرقی مہاراشٹر کے علاقے، شمالی تلنگانہ، وسطی چھتیس گڑھ، اور مغربی بنگال کے علاقے شامل ہیں۔2018 کے تھامسن رائٹرز فاو¿نڈیشن کے سروے میںبھارت کو خواتین کے لئے افغانستان اور شام سے زیادہ خطرناک ملک قرار دیاگیا۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ مہمان بھگوان ہے لیکن بھارتی اور غیر ملکی خواتین کو جنگلات، تایخی مقامات ، ہوٹلوں اور عوامی مقامات پر جنسی تشددکا نشانہ بنایاجارہا ہے۔معروف افراد کے کیسز میں اکثرردعمل فوری نوعیت کا ہوتاہے ، گرفتاریاں ہوتی ہیں اور میڈیا کی توجہ مبذول ہوتی ہے جس کے بعد وہی نظامی ناکامیاں ہوتی ہیں، تاخیر سے ٹرائل، کم سزائیں اور ثقافتی رکاوٹیںپیش آتی ہیں۔صرف خواتین مسافروں کو بار بار کہا جاتا ہے کہ محتاط رہیں، مناسب لباس پہنیں، رات کو باہرجانے سے پرہیز کریں اور تنہا سفر نہ کریں،جو خود خطرے کا اعتراف ہے۔جب ہمپی یا چتراکوٹ جیسے مقامات پر جنسی تشدد ہوسکتا ہے تو بھارت کے محفوظ ہونے کا دعویٰ ہی کھوکھلا ہے۔یہ کبھی کبھار ہونے والاجرم نہیں ہے بلکہ بڑی تعداد میں پیش آنے والے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت عصمت دری کا دارالحکومت ہے۔یہ ایک ثابت شدہ اور مستقل بحران ہے اوردنیا بین الاقوامی ایڈوائزریز، جرائم کے اعداد و شماراور خواتین اور سیاحوں پر بار بار ہونے والے حملوں کو نظر انداز نہیں کرسکتی۔اس لئے بھارت خواتین کے لیے اب بھی دنیا کاسب سے زیادہ خطرناک ملک ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button