حریت قیادت کابلال صدیقی کی بگڑتی ہوئی صحت پر اظہار تشویش، فوری رہائی کا مطالبہ

اسلام آباد: کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخکے کنوینر غلام محمد صفی اوردیگر حریت قیادت نے سرینگر سینٹرل جیل میں غیر قانونی طور پر نظربند حریت رہنما بلال صدیقی کی بگڑتی ہوئی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مسلسل سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت رہنماﺅں نے اپنے ایک مشترکہ بیان کہا کہ بلال صدیقی کو محض حقِ خودارادیت اور کشمیری عوام کے جائز سیاسی حقوق کا مطالبہ کرنے کی پاداش میں غیر قانونی طور پرنظربند رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل نظربندی، نامناسب جیل حالات اور بروقت و معیاری طبی سہولیات کی عدم فراہمی ان کی صحت کو شدید خطرات سے دوچار کر رہی ہے جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔حریت قیادت نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے حریت رہنماو¿ں، سیاسی کارکنوں، نوجوانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف گرفتاریوں، طویل نظربندیوں اور کالے قوانین کا بے دریغ استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری سیاسی قیدیوں کو بنیادی انسانی حقوق، اہل خانہ سے ملاقات، قانونی معاونت اور مناسب طبی سہولیات سے محروم رکھنا عالمی انسانی قوانین اور جنیوا کنونشنز کے منافی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بلال صدیقی کی بگڑتی ہوئی صحت انتہائی تشویشناک ہے اور اگر انہیں فوری طور پر بہتر طبی سہولیات فراہم نہ کی گئیں تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جن کی مکمل ذمہ داری بھارتی حکام پر عائد ہوگی۔حریت رہنماو¿ں نے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)، بین الاقوامی ریڈ کراس، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظربند بلال صدیقی سمیت تمام کشمیری سیاسی قیدیوں کی حالتِ زار کا فوری نوٹس لیں، انہیں فوری طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائیں اور ان کی غیر قانونی نظربندی کے خاتمے کے لیے بھارت پر دباو ڈالیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت جبر، تشدد، گرفتاریوں اور انتقامی کارروائیوں کے ذریعے کشمیری عوام کے جذبہ آزادی کو ہرگز کمزور نہیں کر سکتی، کشمیری عوام حقِ خودارادیت کے لئے اپنی جدوجہد کوہر قیمت پر جاری رکھیں گے۔








