بارہمولہ میں تجارتی اداروں، ٹیلی کام ٹاورز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کے احکامات

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بارہمولہ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے بگڑتی ہوئی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے ضلع بھر کے تجارتی اداروں اور ٹیلی کام سروس فراہم کرنے والوں کو سی سی ٹی وی سرویلنس سسٹم لگانے کی ہدایت کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حکم نامے میں کہاگیا ہے کہ تمام تجارتی اداروں کو جنہوں نے سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں کیے ہیں، اپنے احاطوں کی مکمل بصری کوریج کو یقینی بنانے کے لیے ہائی ریزولیوشن کیمرے نصب کرنا ہوں گے تاکہ ملحقہ سڑکوں، گلیوں اور داخلی و خارجی راستوں پر نظررکھی جاسکے۔ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ جہاں بھی ضرورت ہو نگرانی کو بڑھایا جائے۔ یہ حکم سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بارہمولہ کی سفارش کے بعددیاگیا ہے جنہوں نے انتظامیہ کو بتایا کہ ضلع میں تقریباً 65 سے 70 فیصد تجارتی اداروں میں ابھی تک سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں ہیں۔ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ یہ فیصلہ موجودہ حالات اور واقعات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ حکمنامے میں ٹیلی کام کے بنیادی ڈھانچے کا بھی احاطہ کیاگیاہے۔ انتظامیہ نے ٹیلی کام سروس فراہم کرنے والوں کو ہدایت کی کہ وہ ضلع بھر میں ٹیلی کام ٹاور ز کے تمام مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کریں۔
سیاسی مبصرین کاکہنا ہےکہ تازہ سیکورٹی ہدایات اگست 2019 میں دفعہ370 کی غیر قانونی منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات معمول کے مطابق ہونے کے مودی حکومت کے دعوﺅں کا کھوکھلا پن بے نقاب ہوتا ہے۔





