بھارت: بھوپال میں کشمیری طلباءکو ہراسانی اور بے دخلی کا سامنا
بھوپال: بی جے پی کے زیر اقتدار بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں فارمیسی کی تعلیم حاصل کرنے والے دو کشمیری طلباءکو ان کی کشمیری اور مسلم شناخت کی وجہ سے مسلسل ہراسانی، دھمکیوں اور دباو¿ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے بھارت میں زیر تعلیم یا کام کرنے والے کشمیریوں کے تحفظ کے حوالے سے نئے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق دونوں طالب علم TRUBA انسٹی ٹیوٹ آف فارمیسی بھوپال میں زیر تعلیم ہیں اور گزشتہ ایک سال سے گاندھی نگر کورنڈکے علاقے شانتی ہومز کالونی میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ جموں وکشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے کہا کہ کچھ مقامی باشندے اور دیگر افراد مکان مالک پر صرف اس لیے دباو¿ ڈال رہے ہیں کہ وہ طلباءکو بے دخل کریں کیونکہ وہ کشمیر ی اور مسلمان ہیں۔ایسوسی ایشن نے کہا کہ مالک مکان کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگروہ طلباءکو نکالنے میں ناکام رہا تووہ زبردستی گھر میں داخل ہوکران کو نکال دیں گے۔ایسوسی ایشن نے کہا کہ دھمکیوں سے طلباءخوفزدہ ہیں اوروہ سفر کرنے یا کالج جانے سے ڈرتے ہیںجس سے ان کی حفاظت اور تعلیم کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ طلباءنے مدد کے لیے اپنے کالج کے حکام سے رابطہ کیا لیکن وہ مدد یا مداخلت کرنے میں ناکام رہے۔ایسوسی ایشن نے حکام پر زور دیا کہ وہ طلباءکی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ وہ کسی خوف یا امتیازی سلوک کے بغیر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ ایسوسی ایشن نے تمام کشمیری طلباءکو مذہب، شناخت یا مقام کی بنیاد پر خطرات سے بچانے کا بھی مطالبہ کیا۔اس واقعے سے بھار ت بھر میں زیرتعلیم اور کام کرنے والے کشمیری مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ماضی میںکشمیری طلباءاور تاجروں کو ہندو انتہاپسندوں کی طرف سے ہراسانی، دھمکیوں، حملوں اور بے دخلی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کشمیری سیاست دانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے باربارمطالبہ کیاکہ کشمیریوںکے تحفظ کو یقینی بنایاجائے، تاہم ایسے واقعات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں۔






