رام مندر کے بعدویشنو دیوی مندر میں کروڑوں روپے کی چوری کا انکشاف، عدالت کا تحقیقات کا حکم
جموں: بھارت کے رام مندر میں چندہ چوری کے بعد اب جموں کے ویشنو دیوی مندر میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جموں کی ایک عدالت نے ویشنو دیوی مندر میں تقریباً 20 ٹن چاندی میں گڑبڑی اور 550 کروڑ روپے کی بے ضابطگی کے الزام پر پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے شواہد محفوظ رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ کے مطابق جموں کی چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (سی جے ایم) عدالت نے مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے چڑھائی گئی تقریباً 20 ٹن چاندی میں گڑبڑی اور تقریباً 550 کروڑ روپے میں ہیرا پھیری کے معاملے میں پولیس کو تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے اور تمام شواہد فوری طور پر محفوظ رکھنے کا حکم دیا ہے۔سی جے ایم منیش کمار منہاس نے پنے حکم میں کہا کہ تحقیقات سے متعلق تمام ضروری شواہد کو محفوظ رکھا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی تبدیلی، تلفی یا چھیڑ چھاڑ نہ ہو سکے۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 18 اگست مقرر کی ہے۔یہ معاملہ وکیل دیپک شرما کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کے بعد عدالت تک پہنچا۔ درخواست میں کہاگیا ہے کہ عقیدت مندوں کی طرف سے مندر میں چڑھائی گئی تقریباً 20 ٹن چاندی میں ملاوٹ، رد و بدل اور غبن کیا گیا، جس کی مالیت تقریباً 550 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔عدالت میں پیش کی گئی پولیس رپورٹ کے مطابق دیپک شرما نے سب سے پہلے 9 مئی کو جموں کرائم برانچ اور اقتصادی جرائم ونگ کو شکایت دی تھی۔ شکایت مختلف پولیس دفاتر سے ہوتی ہوئی آخرکار ریاسی پولیس کے ذریعے کٹرا کے ڈی ایس پی کو تحقیقات کے لیے سونپی گئی۔ 29 جولائی کی سماعت کے دوران درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ مندر میں موجود باقی چاندی سمیت تمام ریکارڈ فوری طور پر محفوظ کیاجائے۔اس کے علاوہ درخواست میں سی سی ٹی وی فوٹیج، الیکٹرانک انوینٹری، سرکاری ای میلز، سرور لاگز، آڈٹ ٹریل، اکاو¿نٹنگ ریکارڈ اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کو بھی محفوظ رکھنے کا مطالبہ کیا گیا تاکہ کسی بھی قسم کا ڈیٹا حذف یا تبدیل نہ کیا جا سکے۔درخواست گزار کا مو¿قف تھا کہ اگر چاندی کو پگھلا دیا گیا، ریفائن کر دیا گیا یا کمپیوٹر ڈیٹا حذف ہو گیا تو شواہد کی جانچ، وزن اور خالصیت کی تصدیق ہمیشہ کے لیے متاثر ہو سکتی ہے۔ عدالت نے ان دلائل کو قابل غور مانتے ہوئے ڈی ایس پی بھون کٹرا کو فوری طور پر شواہد محفوظ رکھنے اور جاری تحقیقات کی تفصیلی رپورٹ اگلی سماعت پر پیش کرنے کی ہدایت دی۔






