کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کاحریت رہنماو ں کو انکی برسیوں پرخراجِ عقیدت
اسلام آباد: کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ نے آج اسلام آباد میں ایک تعزیتی ریفرنس میں حریت رہنماو¿ں مشتاق احمد وانی، ڈاکٹر عبد الاعلیٰ اور شیخ تجمل الاسلام کو ان کی برسیوں پر شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تعزیتی ریفرنس کی صدارت کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سابق کنوینر محمد فاروق رحمانی نے کی جبکہ آزاد جموں و کشمیر جماعت اسلامی کے رہنما عبدالرشید ترابی مہمانِ خصوصی تھے۔مقررین نے کہا کہ مشتاق احمد وانی، ڈاکٹر عبد الاعلیٰ اور شیخ تجمل الاسلام نے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز الفتح اور اسلامی جمعیت طلباءسے کیا اور ان تنظیموں کے ارکان کی حیثیت سے قید و بند سمیت مختلف صعوبتیں برداشت کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ رہنما اپنی جدوجہد پر آخری وقت تک ثابت قدم رہے ،اس مقصد کے فروغ کے لیے انتھک محنت کی اور بالآخر اپنے مشن کی خاطر اپنی جانیں قربان کر دیں۔مقررین نے مرحوم رہنماو¿ں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کشمیریوںکے درمیان اتحادواتفاق کے لئے ان کی کوششوںکو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت بے گناہ کشمیریوں کو شہید کر رہا ہے تاکہ انہیں جائز جدوجہد سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔ مقررین نے کہا کہ دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کا واحد راستہ اتحاد و اتفاقِ ہے۔انہوں نے کہا کہ جدوجہدآزادی میںمرحوم رہنماو¿ں کی خدمات اور قربانیوںکو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔اجلاس کا اختتام کشمیری شہداءکے لیے دعائے مغفرت اور اس عزم کی تجدید کے ساتھ ہوا کہ آزادی کی جدوجہد کو اس کی مکمل کامیابی تک جاری رکھا جائے گا۔تقریب میں کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ، سید یوسف نسیم، سید فیض نقشبندی، محمود احمد ساغر، الطاف حسین وانی، میر طاہر مسعود، سرور حسین گلگتی، نجیب غفور، شیخ عبدالمجید، عادل مشتاق وانی، شیخ عبدالمتین، سید اعجاز رحمانی، خادم حسین، زاہد صفی، زاہد اشرف، عبدالمجید لون، داو¿د یوسف زئی، زاہد مجتبیٰ، منظور احمد ڈار، محمد اشرف ڈار، حاجی محمد سلطان، محمد شفیع ڈار، نذیر کرنائی، افضل خان، عبدالرشید بٹ ،عادل انصاری اوردیگر نے شرکت کی۔
دریں اثناءکل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے رہنما حسن البنّاءنے اپنے ایک الگ بیان میں مشتاق وانی، ڈاکٹر عبد الاعلیٰ اور شیخ تجمل الاسلام کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور بھارت کے جبری اور غیر قانونی قبضے کے خلاف جاری جدوجہد آزادی میں ان کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔








