پاکستان کی موثر سفارتی کاوشیں عالمی امن کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل ہے
اسلام آباد: کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں وکشمیر شاخ نے کہا ہے کہ مملکتِ خداداد پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور جنگ کو روکنے کے لیے جو بروقت، متوازن اور مو¿ثر ثالثی کا کردار ادا کیا وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی کی زیرقیادت منعقدہ ایک اجلاس میں حریت رہنماوں نے کہا کہ ایک ایسے نازک وقت میں جب عالمی حالات تیزی سے تصادم اور غیر یقینی کی طرف بڑھ رہے تھے، پاکستان نے ذمہ دارانہ سفارتکاری، دوراندیش قیادت اور امن کے لیے غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے تباہ کن جنگ کو ٹالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ اقدام نہ صرف خطے کے امن و استحکام کے لیے ناگزیر تھا بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مدبرانہ قیادت، مسلسل سفارتی روابط اور بے لوث کاوشوں کے نتیجے میں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ممکن ہوا۔ اس پیش رفت نے ایک خطرناک تصادم کے امکانات کو نمایاں طور پر کم کیا، جو پاکستان کے ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست ہونے کا واضح ثبوت ہے۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے ہمیشہ عالمی تنازعات کے حل کے لیے پرامن مکالمے، سفارتی ذرائع اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو ترجیح دی ہے۔ حالیہ کامیاب سفارتی پیش رفت اس بات کا عملی اظہار ہے کہ پاکستان عالمی امن کے قیام میں ایک مو¿ثر، فعال اور قابلِ اعتماد کردار ادا کر رہا ہے۔ حریت رہنماو¿ں نے کہا کہ اس ثالثی کے نتیجے میں نہ صرف ایک بڑے انسانی المیے کا خطرہ ٹلا بلکہ عالمی معیشت، توانائی کے بحران اور خطے میں ممکنہ عدم استحکام کے اثرات کو بھی روکا گیا۔ پاکستان کی یہ کاوشیں عالمی برادری کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہیں کہ سنجیدہ سفارتکاری اور مخلصانہ نیت کے ذریعے بڑے تنازعات کو بھی پرامن طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماو¿ں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ، پائیدار اور پرامن حل کی جانب سنجیدگی سے پیش رفت کرے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کا قیام مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں اور خطے کی ترقی و خوشحالی اسی بنیادی تنازعے کے منصفانہ حل سے مشروط ہے، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ حریت رہنماو¿ں نے واضح کیا کہ جس طرح پاکستان نے عالمی سطح پر امن کے قیام میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے، اسی طرح بھارت کو بھی طاقت اور جبر کی پالیسی ترک کر کے سنجیدہ مذاکرات اور بامعنی مکالمے کا راستہ اختیارکرنا چاہیے تاکہ اس دیرینہ تنازعے کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل کیا جا سکے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماو¿ں نے اس کامیابی پر حکومتِ پاکستان، عسکری قیادت اور متعلقہ سفارتی اداروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اسے قومی سطح پر ایک قابلِ فخر لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان مستقبل میں بھی اسی بصیرت، حکمت اور عزم کے ساتھ عالمی امن، استحکام اور انصاف کے فروغ میں اپنا فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔آخر میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ پاکستان کی ان مثبت کاوشوں کو سراہتے ہوئے تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے بجائے مکالمے اور سفارتکاری کو ترجیح دے، تاکہ ایک پ±رامن، مستحکم اور منصفانہ عالمی نظام کی بنیاد رکھی جا سکے۔








