مضامین

کشمیری شناخت: دباؤ، مزاحمت اور بقا

بلال وانی

کسی قوم کو کمزور کرنے کے لیے ہمیشہ اس کی سرحدیں تبدیل کرنا ضروری نہیں بلکہ اس کی زبان کو خاموش کر دینا، تاریخ کو متنازع بنانا، ثقافتی علامتوں کو غیر اہم قرار دینا اور اس کے بچوں سے ان کی شناخت کے برخلاف کوئی اظہار کروانے کی کوشش کرنا بھی شناخت پر دباؤ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

حالیہ دنوں مقبوضہ کشمیر میں ایک ویڈیو سے متعلق یہ دعویٰ سامنے آیا کہ پھل فروخت کرنے والے کشمیری مسلمان بچوں کو رقم دینے کی پیشکش کی گئی، لیکن اس کے ساتھ ان سے ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ کا نعرہ لگانے کو کہا گیا۔ بچوں نے مبینہ طور پر نعرہ لگانے سے انکار کر دیا، لیکن ویڈیو میں دکھائی دینے والا واقعہ ایک ایسے سوال کو جنم دیتا ہے جسے محض ایک نعرے یا ایک لمحے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔

کسی بچے کو اس کی مرضی کے خلاف کسی مخصوص قومی یا سیاسی اظہار پر آمادہ کرنا آخر کس حد تک قابلِ قبول ہے؟ یہاں اصل مسئلہ کسی نعرے کی زبان نہیں، اختیار اور شناخت ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ کہتا ہے تو یہ اس کا اظہار ہے۔ اگر کوئی دوسرا ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کہتا ہے تو یہ بھی اس کا اظہار ہے۔ لیکن جب کسی کمزور شخص، خصوصاً بچے، کے سامنے مالی فائدے یا کسی اور ترغیب کو مخصوص نعرے سے جوڑ دیا جائے تو معاملہ رضاکارانہ اظہار سے نکل کر دباؤ کے دائرے میں داخل ہو سکتا ہے۔

یہ بچوں کے ساتھ دبائو ڈالنے، مذہبی اور قومی شناخت کی بنیاد پر غیر مناسب رویہ اور ہراساں کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ رقم کو نعرے کے ساتھ مشروط کرنا،مالی ترغیب کے ذریعے بچوں پر دبائو ڈالنا، بچوں کی کم عمری سے فائدہ اٹھانے کی کوشس کرنا اور کشمیری مسلمان بچوں سے ان کی مرضی کے خلاف ایسا نعرہ لگوانے کی کوشش جسے وہ اپنی شناخت یا عقیدے کے حوالے سے قبول نہیں کرتے شناختی دبائو کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

کشمیر کی پیچیدگی یہی ہے کہ یہاں شناخت پہلے ہی ایک حساس سیاسی اور تاریخی مسئلہ ہے۔ کشمیری مسلمان کی شناخت صرف مذہب تک محدود نہیں؛ اس میں کشمیری زبان، رسم و رواج، صدیوں پر محیط تہذیب، مقامی تاریخ، موسیقی، ادب اور اپنی سرزمین سےجذباتی وابستگی بھی شامل ہے۔

شناخت کسی ایک نعرے کا نام نہیں۔ شناخت ایک پوری تہذیبی یادداشت کا نام ہے۔ کشمیر میں صدیوں سے مختلف مذہبی اور ثقافتی برادریاں ایک دوسرے کے ساتھ رہتی آئی ہیں۔ کشمیری پنڈت، مسلمان، سکھ اور دیگر برادریاں اس خطے کی اجتماعی تاریخ کا حصہ ہیں۔ یہاں میں یہ بات بھی عرض کرتا چلوں کہ اپنی شناخت سے محبت کیجیے، مگر دوسروں کی شناخت کا احترام بھی کیجیے۔

ہمیں اس بات کا بھی ادراک ہے کہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب طاقت کا توازن ایک طرف ہو اور شناخت دوسری طرف۔ ایک طرف ایک بااثر گروہ یا اکثریتی سیاسی ماحول ہو اور دوسری طرف روزی کمانے والے کم عمر بچے۔ ایسے ماحول میں کسی بچے سے یہ تقاضا کرنا کہ وہ مالی فائدے کے بدلے اپنی مرضی کے خلاف کوئی سیاسی یا قومی نعرہ لگائے، اس پر اخلاقی طور پر بھی سوال اٹھاتا اور یہی وہ مقام ہے جہاں کشمیر کے مسئلے کو صرف سیاست کے آئینے میں دیکھنا ناکافی ہو جاتا ہے۔

محترم قارئیں شناخت اچانک ختم نہیں ہوتی۔ وہ آہستہ آہستہ کمزور ہوتی ہے۔جب نئی نسل اپنی زبان بولنے میں جھجک محسوس کرے، اسے اپنی تاریخ سے ناواقف رکھا جائے، مقامی ثقافت کو پسماندگی کی علامت سمجھا جانے لگے، بیرونی ثقافتی نمونے مقامی روایت پر غالب آ جائیں اور کسی مخصوص شناخت کو مسلسل کمتر محسوس کرایا جائے تو شناخت کا اندرونی اعتماد متاثر ہونے لگتا ہے۔

میں یہاں پہ کہتا چلوں کہ کشمیر میں شناخت کا سب سے بڑا دفاع تعلیم ہے۔اپنی زبان محفوظ کیجیے۔تاریخ پڑھیے،بزرگوں کی یادداشت محفوظ کیجیے، ادب کو نئی نسل تک پہنچائیے،اپنی ثقافت کو جدید دنیا کے ساتھ زندہ رکھیے۔کیونکہ جو قوم اپنی تاریخ خود نہیں لکھتی، ایک دن کوئی اور اس کی تاریخ لکھ دیتا ہے۔

میرے نزدیک ایک اور خطرہ یہ بھی ہے کہ شناخت کے تحفظ کے نام پر نفرت کو فروغ دینا۔اگر ہم کشمیری اپنی شناخت کے دفاع کو دوسروں کے خلاف نفرت میں تبدیل کر دیں تو ہم اس اخلاقی برتری کو کھو دیں گے جس کے ساتھ ہم اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ کشمیر کی خوبصورتی ہی اس کے تہذیبی تنوع میں رہی ہے۔ اس لیے کشمیری شناخت کا مضبوط تصور وہی ہوگا جو اپنی شناخت کے تحفظ کے ساتھ دوسروں کے حقِ شناخت کو بھی تسلیم کرے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیر کے بچوں سے یہ نہ پوچھا جائے کہ وہ کون سا نعرہ لگاتے ہیں؛ بلکہ انہیں یہ حق دیا جائے کہ وہ اپنی مرضی سے فیصلہ کریں کہ وہ کون ہیں۔ ایک بچہ اپنی شناخت کا انتخاب کسی کے دباؤ میں نہیں، اپنے گھر، اپنی زبان، اپنی تاریخ اور اپنے شعور سے کرے۔میرے نزدیک شناخت کی اصل آزادی یہی ہے۔

میں یہاں آپ کی خدمت میں یہ بھے عرض کرتا چلوں کہ کشمیر کی شناخت کو علم، تہذیب، زبان، تاریخ اور کردار سے زندہ رکھا جا سکتا ہے۔کیونکہ زمین پر قبضہ کیا جا سکتا ہے، سیاسی نقشے بدلے جا سکتے ہیں،حکومتیں آ اور جا سکتی ہیں، مگر ایک زندہ قوم کی شناخت تب تک باقی رہتی ہے جب تک اس کی نئی نسل اپنے ماضی کو جانتی، حال کو سمجھتی اور مستقبل کا فیصلہ اپنے شعور سے کرتی ہے۔

آج یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کشمیری بچے اپنی شناخت کے ساتھ آزادانہ طور پر بڑے ہو سکیں گے؟اس سوال کا جواب صرف کشمیر نہیں، پورے خطے کے مستقبل کی سمت متعین کرے گا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مزید دیکھئے
Close
Back to top button