بھارت

اسد الدین اویسی کی حجاب سے متعلق الہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی مذمت

حجاب ہمارا مذہبی معاملہ ہے، فیصلہ ہم کریں گے: اسدالدین اویسی

نئی دلی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور حیدرآباد سے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک مسلمان طالبہ کی اسکول میں حجاب پہننے کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے پر سخت ردِعمل ظاہرکیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اسد الدین اویسی نے عدالتی فیصلے کو اسلام پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام میں کون سا عمل ضروری ہے، اس کا فیصلہ جج نہیں کرسکتے، یہ ہمارا مذہب ہے اور ہم فیصلہ کریں گے کہ اس میں کیا ضروری ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مذہبی آزادی سے متعلق لازمی مذہبی اعمال کا معاملہ سپریم کورٹ میں پہلے ہی زیر سماعت ہے، اس لیے الہ آباد ہائی کورٹ کو اس معاملے پر فیصلہ نہیں دینا چاہیے تھا۔انہوں نے دعوی کیا کہ یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 19 اور 25 کے خلاف ہے۔مسلمان طالبہ کی حمایت کرتے ہوئے اسداویسی نے کہا کہ حجاب پہننا طالبہ کی ذاتی پسند اور پردے کا معاملہ ہے، وہ سر پر حجاب پہن رہی ہے، دماغ پر نہیں۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس فیصلے سے مسلم لڑکیوں کی تعلیم متاثر ہوگی۔ اتر پردیش میں ثانوی سطح کے اسکولوں میں مسلم لڑکیوں کا داخلہ پہلے ہی کم ہے اور ایسے فیصلے مسلمان لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے 21اگست کو پریاگ راج کے ایک نجی اسکول کی طالبہ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ کسی طالب علم کو اپنی ذاتی پسند کے مطابق تعلیمی ادارے کے مقررہ یونیفارم میں تبدیلی کا حق حاصل نہیں۔
طالبہ کی جانب سے درخواست میں اسکول یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی تھی، طالبہ ہائی اسکول پاس کرچکی ہے اور اسی ادارے میں گیارہویں جماعت میں داخلہ لینا چاہتی ہے۔جسٹس جے جے منیر اور جسٹس اندرجیت شکلا پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے حجاب کو اسلام کا لازمی مذہبی عمل قرار دینے کی دلیل مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ مختلف ہائی کورٹس اس معاملے پر متفق رہی ہیں کہ خواتین کے لیے حجاب پہننا ایسا لازمی مذہبی عمل نہیں جس کے بغیر ان کے ایمان کو نقصان پہنچے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button