بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھا ہے
جدید تاریخ میں پانی کو ہتھیار بنانے کی پہلی مثال ہے، احسن اقبال
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھا ہے جو جدید تاریخ میں پانی کو ہتھیار بنانے کی پہلی مثال ہے اور پاکستان کے لیے ایک سنگین نئے سکیورٹی چیلنج کو جنم دے رہی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نیویارک میں ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیائی اقدامات فروا امین سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ 7دہائیوں پرانا یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان متعدد جنگوں کے باوجود ہمیشہ برقراررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ بھارتی حکومت نے یکطرفہ طور پر اسے التوا میں رکھا ہے جس سے ایک نیا چیلنج پیدا ہوا ہے اور شاید جدید تاریخ میں پہلی مرتبہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔احسن اقبال نے خبردار کیا کہ بھارت اب پاکستان کو فصلوں کی ضرورت کے وقت پانی روک سکتا ہے اور ایسے وقت میں پانی چھوڑ سکتا ہے جب اس کی ضرورت نہ ہو جس سے مشترکہ آبی وسائل کو دبائو کے ایک ممکنہ ذریعے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔پاکستان اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے دو سطحوں پر اقدامات کر رہا ہے۔ پہلی سطح پر نئے آبی ذخائر کی تعمیر تیز کی جا رہی ہے تاکہ ملک کے پاس پانی کا ایک سٹریٹجک بفر موجود ہو۔ دوسری سطح پر پاکستان تنازع کو کشیدگی یا جنگ کی طرف جانے سے روکنے کے لیے تمام دستیاب سفارتی ذرائع استعمال کر رہا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہم اسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا پہلے ہی جنگوں کی تاریخ رکھتا ہے اور اب خطے کو ترقی، غربت کے خاتمے، بیماریوں پر قابو پانے اور اپنی بڑی نوجوان آبادی کو تعلیم دینے پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر خطوں میں علاقائی رابطوں کے ثابت شدہ فوائد کے باوجود جنوبی ایشیا آج بھی دنیا کا سب سے کم مربوط خطہ ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق پانی کا چیلنج پاکستان کی وسیع تر معاشی اور سٹریٹجک ترجیحات کا حصہ ہے۔سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے احسن اقبال کا پیغام واضح تھا کہ پاکستان پانی کو مستقل طور پر دبائو یا جبر کے آلے میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے آبی ذخائر کی تعمیر اور سفارتی کوششوں، دونوں محاذوں پر کام جاری رکھے گا۔KMS-Y






