پاکستان

با باگورو نانک دیو جی تمام مذاہب کے لوگوں کیلئے قا بل احترام ہیں،وزیر مذہبی امور

baba guru nanak birthdayلاہور:
وفاقی وزیر مذہبی امور انیق احمد نے کہا ہے کہ با باگورو نانک دیو جی کردار کے صوفی تھے اوربابا نانک جی کی ذات تمام مذاہب کے لوگوں کیلئے احترام کی حامل ہے۔
انیق احمد نے ننکا نہ صا حب میں گورو نانک دیو جی کے 554ویں جنم دن کی تقریب سے خطاب ہو ئے کہاکہ بابا نانک جی صرف قول کے ہی نہیں بلکہ کردار کے بھی صوفی تھے اور آج ہم توحید کے پرچارک بابا دیو گورونانک جی کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں،بابا نانک دیو جی انقلابی سوچ کے حامل تھے، ان کی تعلیمات کی بدولت نچلے طبقے کے انسان کو اپنی اہمیت کا احساس ہوا اور اس نے اپنے حق کے حصول کے لئے ظالموں کو للکارا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بابا گورونانک دیو جی نے خود کھیتی باڑی کر کے لوگوں کو محنت اور حلال کی کمائی کا درس دیا ، ان کی ذات رواداری اور امن ، محبت کا پیغا م پھیلانے والوں کے لئے مشعل راہ ہے ۔ انیق احمد نے کہا کہ آج کی اس تقریب میں تمام مذاہب کے لوگوں کی بڑی تعداد میں موجودگی اس بات کا اظہار ہے کہ بابا نانک جی ہم سب کے سانجھے ہیں،بابا نانک جی نے لوگوں کو جوڑنے کا جو فلسفہ پیش کیا ، آج اس فلسفے اور نظرئیے کا جیتا جاگتا مظاہرہ یہاں موجود ہے ، جس سے لو گوں کی بابا نانک جی سے عقیدت کا اظہار ہوتا ہے ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بابا نانک جی کی ذات تمام مذاہب کے لوگوں کے لئے احترام کی حامل ہیمگر مسلمان خصوصا ان کے توحیدی نظرئیے کی بدولت ان سے خاص کا رشتہ رکھتے ہے ،توحید کی اسی مشترکہ سوچ کے باعث مسلمانوں نے بابا گورو نانک جی کو اپنا مانا اور انہیں ایک درویش جان کر احترام دیا ،آج بھی ہزاروں مسلمان ان کے اس جنم استھان اور جوتی جوت استھان پر حاضری دے کر اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ انیق ا حمد نے کہاکہ پاکستان میں بسنے والی تمام قومیں اپنے مذہبی عقائد پر پوری آزادی سے عمل پیرا ہیں، تمام مذاہب کے لوگوں کو مکمل سیا سی ، اقتصادی اور شہری حقوق حاصل ہیں۔ وفا قی وزیر نے کہا کہ ہمارے قائدین بڑے وژن والے لوگ تھے ۔جنہوں نے آج سے سو سال پہلے اپنے دشمنوں کے اصل گھنائونے چہرے کو پہچان لیا اورایک آزاد ملک کی جستجو میں اپنے سکھ اور چین کی قربانی دے کر ہمارا مستقبل محفوظ بنا یا ۔ انیق احمد نے کہا کہ آج پاکستان میں تمام اقلیتوں کو برابری کے حقوق حاصل ہیں اور مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ اپنی زندگیاں بسر کر رہے ہیں۔

متعلقہ مواد

Leave a Reply

Back to top button
%d