پاکستان پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا ، مصدق ملک

برسلز:وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ سرحد پار دریاوں پر یکطرفہ اقدامات علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہیں، پاکستان پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناقابل قبول سمجھتا ہے ، سندھ طاس معاہدہ دنیا کا مضبوط ترین معاہدہ ہے جسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مصدق ملک نے ان خیالات کا اظہار برسلز میں سرحد پار آبی وسائل سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوںنے کہاکہ مسئلہ صرف پانی کا نہیں بلکہ انصاف کا ہے، پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کے روزگار، خوراک اور بقا کا معاملہ ہے، پانی کا مسئلہ زراعت، معیشت اور قومی سلامتی سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو حالیہ برسوں میں بدترین سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا، جن کے نتیجے میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔ گزشتہ 15 برسوں کے دوران موسمیاتی تباہ کاریوں کے باعث 6 ہزار افراد جاں بحق، 19 ہزار سے زائد زخمی ہوئے جبکہ 1.8 بلین تعلیمی دن ضائع ہوئے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ دنیا کے صرف تین ممالک 57 فیصد جبکہ 10 ممالک 70 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں، اور یہی ممالک عالمی گرین فنانسنگ کا تقریباً 80 فیصد حصہ بھی حاصل کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کاربن اخراج کے باعث عالمی حدت میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے گلیشیئر پگھلتے ہیں اور نتیجتاً سیلاب اور دیگر قدرتی آفات جنم لیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلیوں کے سب سے سنگین اثرات کا سامنا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مسئلے میں اکیلا نہیں۔ بنگلہ دیش سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں ایسے کسان اور ماہی گیر موجود ہیں جو پانی پر اختیار نہ ہونے کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے اثرات بھگت رہے ہیں، یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی انصاف کا معاملہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناقابل قبول سمجھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کے قدرتی بہاو کو روکنے یا اس میں مداخلت کرنے کی کوئی بھی کوشش پاکستان کے نزدیک جنگی اقدام کے مترادف ہوگی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین معاہدوں میں سے ایک ہے اور اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق یہ صرف پانی کی تقسیم کا معاہدہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین، عالمی معاہدوں کے احترام اور باہمی اعتماد کی بنیاد ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کے بہاو میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پاکستان کی خوراکی سلامتی، معیشت اور لاکھوں خاندانوں کے روزگار پر براہِ راست اثر انداز ہوگی۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 40 فیصد آبادی کا روزگار زرعی شعبے سے وابستہ ہے، سرحد پار دریاوں پر یکطرفہ اقدامات علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا قواعد پر مبنی عالمی نظام کو کمزور کرتا ہے جبکہ قدرتی وسائل کو ہتھیار بنانا ماحولیات، موسمیاتی نظام اور عالمی استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان بھارت کے عوام کے خلاف نہیں بلکہ انصاف، امن اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا حامی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے عوام بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں اور پاکستان جنگ نہیں بلکہ امن، مکالمے اور تعاون کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی، سفارتی اور بین الاقوامی فورم پر آواز بلند کرتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی، پانی اور ماحولیات سے جڑے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے اور پاکستان مشترکہ آبی وسائل کے منصفانہ استعمال، موسمیاتی انصاف اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا مضبوط حامی ہے۔






