مقبوضہ کشمیر : ہائی کورٹ کی طرف سے ایک شہری کی کالے قانون کے تحت نظربندی کالعدم قرار
جموں: غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ہائیکورٹ نے راجوری سے تعلق رکھنے والے ایک شہری کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربندی کالعدم قراردیتے ہوئے فوری رہائی کا حکم جاری کیاہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہائی کورٹ کے جسٹس ایم اے چودھری نے راجوری کی تحصیل سیوٹ کے علاقے بکھر سے تعلق رکھنے والے صابر احمد کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے دوران کہاکہ بغیر اجازت مویشیوں کی نقل و حمل کے الزامات پبلک سیفٹی ایکٹ کے نفاذ کیلئے کافی نہیں ہیں۔صابر احمد کوڈسٹرکٹ مجسٹریٹ راجوری کی جانب سے 3مارچ 2026کو کالے قانون پی ایس اے کی دفعہ 8کے تحت جاری حکم کے تحت گرفتار کیاگیاتھا۔پولیس حکام نے اس کے خلاف 2023اور 2025میں درج تین ایف آئی آرز کو بنیاد بنایا، جن میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی باقاعدہ اجازت کے بغیر مویشی منتقل کیے تھے۔ حکام کا موقف تھا کہ ان مقدمات سے اس کی مسلسل مجرمانہ اور سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہوناظاہر ہوتا ہے ۔عدالت نے قرار دیا کہ ایسے معاملات سے عام فوجداری قانون کے تحت نمٹا جاسکتا ہے اور محض ایسے الزامات کو امن عامہ کے لیے خطرہ قرار نہیں دیا جاسکتا اور حکام کی طرف سے پیش کیا گیا مواد پبلک سیفٹی ایکٹ تحت حراست کو جائز قرار دینے کے لیے ناکافی ہے








