لداخ: مظاہروں کو روکنے کے لیے فورسز کی بھاری نفری تعینات

لیہہ : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے خطے لداخ میں بھارتی انتظامیہ نے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے پیر املٹری دستوں کی مزید کمپنیاں تعینات کر دی ہیں۔ لداخ کے ضلع لیہہ میں گزشتہ برس 24ستمبر کو بھارتی فورسز نے پر امن مظاہرین پر اندھا دھند گولیاں برسائی تھیں جس کے نتیجے میں چار افراد کی جانیں چلی گئی تھیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی دس کمپنیاں اور مظاہرین سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ سی آر پی ایف کی خصوصی فورس ریپڈ ایکشن فورس کی دو کمپنیاں ستمبر کے پورے مہینے کے لیے ضلع لیہہ میں تعینات رہیں گی۔
شہری حقوق کے گروپ لیہہ اپیکس باڈی (ایل اے پی) نے واقعے کی برسی پر علاقے میں پرامن مظاہروں کا اعلان کیا ہے جس سے بھارتی حلقوں میں تشویش کی لہر ڈوڈ گئی ہے۔یاد رہے کہ خطے کے لوگ لداخ کو ریاست کا درجہ دینے ، چھٹے شیڈول میں شامل کرنے اور دیگر مطالبات کر رہے ہیں۔
لداخ کے معروف موسمیاتی کارکن سونم وانگچک بھی گزشتہ برس ستمبر میں مذکورہ مطالبات کے حق میں لیہہ میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے ۔ انتظامیہ نے ان پر مظاہرین کو اکسانے کا الزام عائد کیا تھا اور حراست میں لیکربھارتی ریاست راجستھان کی جود پور جیل میں منتقل کر دیا تھا جہاںسے انہیں رواں برس 14مارچ کو رہا کیا گیا۔







