بھارت: منی پور میں ایک بارپھر کشیدگی، کسانوں پر مسلح افراد کا حملہ

امپھال : بھارت کی شورش زدہ ریاست منی پور میں نسلی کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے جہاں ضلع کانگ پوکپی کے علاقے وا کوٹ پھائی میں کسانوں پر مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مقامی کوکی تنظیموں کاکہنا ہے کہ حملہ نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ (این ایس سی این-آئی ایم) اور زیڈ یو ایف (کے) سے وابستہ مسلح افراد نے کیا۔۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق کسان نیبیٹ کے قریب واقع ایک کھیت میں رات گزار رہے تھے کہ تانگکھل-لیانگمی ناگا عسکریت پسندوں نے ان پر حملہ کردیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملے کی اطلاع ملنے پر کوکی رضاکار فورسز موقع پر پہنچیں اور دفاعی کارروائی کرتے ہوئے کسانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔تین کوکی تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں واقعے کو بلا اشتعال حملہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیموں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور پورے علاقے میں نسلی بنیادوں پر تشدد کے واقعات پھیلنے کا خدشہ ہے۔مقامی تنظیموں کاکہنا ہے کہ علاقے میں کسانوں اور دیہی آبادی کو مسلسل خوف و ہراس کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق کھیتوں اور دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے کسان سکیورٹی خدشات کے باعث معمول کی زرعی سرگرمیاں انجام دینے سے بھی قاصر ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ علاقوں میں شہریوں کے تحفظ کے لیے اضافی فورسز اہلکار تعینات کیے جائیں۔تنظیموں نے خاص طور پر این ایس سی این-آئی ایم اور بھارتی حکومت کے درمیان جاری امن عمل پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ این ایس سی این-آئی ایم طویل عرصے سے بھارتی حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں مصروف ہے، تاہم کوکی تنظیموں کا موقف ہے کہ جنگ بندی کے انتظامات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض مسلح عناصر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔






