برطانیہ سے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے دورے کو روکنے کی اپیل

لندن:کشمیر سینٹرلندن نے برطانوی حکومت سے راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کو برطانیہ میں داخل ہونے سے روکنے کی اپیل کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیر سینٹر نے برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود کو ایک ڈوزیئر پیش کیا ہے جس میں برطانیہ کے امیگریشن قوانین کے تحت موہن بھاگوت کے مجوزہ دورے کا جائزہ لینے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میٹروپولیٹن پولیس اور نیشنل پولیس چیفس کونسل کو بھی ایک علیحدہ درخواست بھیجی گئی ہے تاکہ ان کی مجوزہ سرگرمیوں سے امنِ عامہ اور مذہبی منافرت پر مبنی جرائم کا جائزہ لیا جا سکے۔کشمیر سینٹر نے موہن بھاگوت کے مجوزہ لندن پروگرام کو محض ایک معمول کی کمیونٹی تقریب سے بڑھ کر قرار دیتے ہوئے مو¿قف اختیار کیا کہ آر ایس ایس کی قیادت بھارت میں اکثریتی سیاست کے سیاسی نظریے کی نمائندگی کرتی ہے۔کشمیر سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر مزمل ایوب ٹھاکر نے کہا کہ آر ایس ایس کی اکثریتی سیاست اور اقلیت مخالف سرگرمیوں کا ایک ریکارڈ موجود ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھاگوت کو برطانیہ میں ایسے پلیٹ فارم کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے جہاں وہ ایک امتیازی اور اخراج پر مبنی سیاسی منصوبے کو فروغ دے سکیں۔انہوںنے کہا کہ وزیر داخلہ کو دی گئی درخواست میں بھاگوت کی امیگریشن حیثیت اور اس بات پر غور کرنے کی درخواست کی گئی ہے کہ آیا برطانیہ میں ان کی موجودگی عوامی مفاد کے لیے موزوں ہوگی۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ بھاگوت کے برطانوی میزبانوں کی شناخت کی جائے اور اس بنیاد کا جائزہ لیا جائے جس کے تحت وہ ملک میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ پولیس کو بھیجی گئی درخواست میں برطانوی حکام پرزوردیاگیا ہے کہ وہ جائزہ لیں کہ آیا بھاگوت کی برطانیہ میں سرگرمیوں سے متعلق کوئی مخصوص تقریر، اشاعت یا طرزِ عمل پبلک آرڈر ایکٹ 1986 کے تحت مذہبی منافرت کو ہوا دینے سے متعلق جرائم کے قانونی تقاضوں پر پورا اترتی ہے۔کشمیر سینٹر نے واضح کیا کہ بھارت میں بھاگوت کی جانب سے دیے گئے بیانات برطانیہ میں جرم نہیں بن جاتے، تاہم برطانیہ میں نشر یا تقسیم کیے جانے والے کسی بھی بیان یا مواد کا برطانوی قانون کے تحت جائزہ لیا جانا چاہیے۔








