مقبوضہ جموں وکشمیر:جبری گمشدگی کے شکارافراد کے اہلخانہ سالہاسال سے انصاف کے منتظر

سرینگر :آج جب دنیا بھر میںجبری گمشدگی کے شکارافراد کا عالمی دن منایاجارہاہے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ 37 برس کے دوران بھارتی فورسز کی حراست میں جبری طور پر لاپتا کیے گئے ہزاروں کشمیریوں کے اہلخانہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر جو دنیا کا سب سے زیاد ہ فوجی جماﺅ والا علاقہ ہے، بھارتی فورسز کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، تشدد، جنسی زیادتی اور دیگر مظالم براشت کر رہا ہے۔ لاپتا افراد اور جبری گمشدگیوں کا مسئلہ پورے جموں وکشمیر میں شدید صدمے، عوامی بے چینی اور غم وغصے کا باعث بنا ہوا ہے۔مقامی برادریاں، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی مبصرین ہزاروں حل طلب مقدمات پر مسلسل شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ 1989 سے اب تک بھارتی فورسز کی حراست میں کم از کم 8,000 بے گناہ کشمیری لاپتا ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجی کارروائیوں میں شدت اور دورانِ حراست اور جعلی مقابلوں میں ماورائے عدالت ہلاکتوں میں اضافہ بی جے پی حکومت کے کشمیر دشمن ایجنڈے کا حصہ ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ کشمیری نوجوان مقبوضہ علاقے میں تعینات دس لاکھ سے زائد قابض فوجیوں کا خاص ہدف رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جبری گمشدگیوں کے شکارافراد کے اہل خانہ اور رشتہ دار اپنے لاپتا پیاروں کا سراغ لگانے کے لیے ہر ممکن دروازہ کھٹکھٹاتے رہے ہیں، لیکن انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی۔ لاپتا افراد کے اہلخانہ کو معاشی مشکلات کا بھی سامنا ہے کیونکہ زیادہ تر کیسز میں خاندان کے کفیل کو ہی نشانہ بنایا گیاہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جبری گمشدگیوں سے نہ صرف مخالف آوازوں کودبایاجاتا ہے بلکہ معاشرے میں غیر یقینی اور خوف ودہشت بھی پیدا ہوتا ہے۔ اس غیر انسانی اور سفاکانہ عمل میںبھارتی فورسز کی تمام شاخیں ملوث ہیں جن میں فوج، پیراملٹری فورسز اور اسپیشل ٹاسک فورسزکے ساتھ ساتھ مسلح افواج کی نگرانی، کنٹرول اور ہدایات پرکام کرنے والے مسلح گروہ بھی شامل ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے متنازعہ علاقے میں ہزاروں گمنام قبروں کی نشاندہی کی ہے۔ مقامی تحقیقات اور کارکنوں کی
چھان بین سے انکشاف ہوا ہے کہ ان میں سے کچھ کا تعلق لاپتا ہونے والے مقامی باشندوں سے ہے۔جبری گمشدگیوں کے اس ظالمانہ عمل نے مقبوضہ جموںو کشمیر میں لوگوں کے ایک نئے طبقے کو جنم دیا ہے جنہیں ”نیم بیوائیں“ اور ” نیم یتیم“ کہا جاتا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں یہ اصطلاحات اب عام استعمال کی جاتی ہیں۔ ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ، آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ، پبلک سیفٹی ایکٹ اور اَن لا فل ایکٹیویٹیز (پریوینشن) ایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت فورسز کے اہلکاروں کو حاصل استثنیٰ نے انہیں لوگوں کو قتل، دہشت زدہ، گرفتار، ہراساں اور خاموش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی املاک ضبط کرنے، چھیننے اور لوٹنے کی چھوٹ دے رکھی ہے کیونکہ ان سے کوئی بازپرس نہیں کی جاسکتی۔متاثرین کے اہل خانہ نے صحافیوںکو بتایا کہ ان کے پیاروں کو بھارتی فورسز اور متعلقہ اداروں نے ان کے گھروں، گلیوں اور حتیٰ کہ سڑکوں سے اٹھانے کے بعد جبری طور پر لاپتا کر دیا۔دفعہ 370 اور 35A کی غیر قانونی منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیرمیں خواتین اور لڑکیوں کے لاپتا ہونے پر عوامی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ جیسے اداروں کے سامنے پیش کی گئی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں تقریباً 10,000 خواتین اور لڑکیاں لاپتا ہوئی ہیں، جس کے خلاف مقامی سطح پر احتجاج اور فوری تحقیقات کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔بھارتی پارلیمنٹ میں بھارت کے وزیر مملکت برائے داخلہ امور اجے کمار کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2019 سے مقبوضہ جموں و کشمیر سے 9,765 خواتین جن میں 18 سال سے کم عمرکی 1,148 لڑکیاں بھی شامل ہیں، لاپتا ہوئی ہیں۔جولائی 2026 میں ایک مقامی عدالت نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے عبدالرشید وانی کے لیے باقاعدہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دیا جو 1997 میں بھارتی فوج کی حراست میں لاپتا ہو گیاتھا۔ عدالت نے پولیس کی اس تحقیقات کا حوالہ دیا جس میں بتایا گیا تھا کہ بھارتی فوج کے ایک افسر نے انہیں حراست کے دوران قتل کیاہے۔ یہ کھلا اعتراف لوگوں کے ان گہرے زخموں کو دوبارہ تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس طویل قانونی جدوجہد کو بھی اجاگر کرتا ہے جس کا سامنا متاثرہ خاندانوں کو کرنا پڑتا ہے۔13 فروری 2026 کو 25 سالہ ریاض، 18 سالہ شوکت احمد اور مختاراحمد ضلع کولگام کے علاقے اشموجی میں ایک شادی میں شرکت کے لیے قریبی گاو¿ں قاضی گنڈ سے روانہ ہوئے۔ لیکن وہ تقریب میں نہیں پہنچے اور راستے میں ہی لاپتا ہو گئے۔ایک ماہ بعد 25 سالہ ریاض اور 18 سالہ شوکت احمد جو دونوں بھائی تھے، کی لاشیں ضلع کولگام میں ایک نہر کے قریب سے ملیں جو ان کے گھرسے تقریباً 10 کلومیٹر دور تھا۔ متاثرین کے 72 سالہ والد نے الجزیرہ سے اپنے گھر کے باہر گفتگو کرتے ہوئے شدید غم و غصے کے عالم میں کہاکہ یہ حادثہ نہیں تھا۔ ان کی آواز دکھ سے بھرا گئی تھی۔ انہوں نے کہاانہیں تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ انہوں نے اصرارکیاکہ میرے بیٹوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔24 سالہ مختار احمد اعوان جو ریاض اور شوکت کے ساتھ لاپتا ہواتھا، تاحال نہیں مل سکا۔ضلع کٹھوعہ میں تین شہری 32 سالہ یوگیش سنگھ، 40 سالہ درشن سنگھ اور 15 سالہ ورون سنگھ 5 مارچ 2025 کو لوہائی ملہار میں ایک شادی میں شرکت کے لیے سفر کے دوران لاپتا ہو گئے۔ دو روز بعد ان کی لاشیں کٹھوعہ کے علاقے بلاور میں ایک گہری کھائی سے ملیں۔چند روز بعد مارچ 2025 میںہی دو مزید نوجوان محمد دین اور رحمان علی کٹھوعہ میں لاپتا ہو گئے۔2020 میں ایک بھارتی فوجی افسر نے ضلع راجوری میں تین نوجوانوں کو اغوا کرکے قتل کر دیا۔ پولیس نے اس افسر کے خلاف چارج شیٹ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس نے تین مزدوروں کو اغوا کرکے ایک جعلی مقابلے میں قتل کیا۔ کورٹ مارشل نے افسر کو قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سفارش کی۔ تاہم نومبر 2023 میں آرمڈ فورسز ٹربیونل نے سزا معطل کر دی اور افسر کو ضمانت دے دی۔ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس ایپئرڈ پرسنز اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماو¿ں نے سرینگر میں اپنے بیانات میں کہا کہ بھارتی فورسز مقبوضہ جموں وکشمیرمیں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ سمیت کالے قوانین کا استعمال کر رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کے تحت جموں و کشمیرکے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ فوجی اہلکاروں کو وسیع قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ناقدین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ قانون مظالم کے خلاف قانونی کارروائی سے بچاو¿ کی ایک مو¿ثر ڈھال بن گیا ہے۔ اس قانون کے تحت بھارتی فورسز جائیدادوں کی تلاشی لے سکتی ہیں، بغیر وارنٹ گرفتاری کر سکتی ہیں اور طاقت کا وحشیانہ استعمال کر سکتی ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی اجازت کی شرط عملاً استثنیٰ فراہم کرتی ہے جس کے باعث متاثرین کو ماورائے عدالت قتل، تشدد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف سول عدالتوں سے انصاف حاصل کرنے میں رکاوٹ پیش آتی ہے۔
دریں اثناءجبری گمشدگیوں کے متاثرین کے عالمی دن کے موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ نے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیریوں کی جبری گمشدگیوں میں براہِ راست ملوث بھارتی فوجیوں کا مقدمہ ایک بین الاقوامی عدالت میں چلایا جائے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارتی حراست میں جبری طور پر لاپتا کیے گئے ہزاروں کشمیریوں کا سراغ لگانے میں اپنا کردار ادا کرے







