لاپتہ کشمیریوں کے اہلخانہ آج بھی اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں: غلام محمد صفی

اسلام آباد:کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ نے کہا ہے کہ آج جب دنیا بھر میں لاپتہ افراد کا عالمی دن منایا جارہا ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں بیشتر کشمیری خاندان بھارتی قابض فورسز کی حراست میں لاپتہ ہونے والے اپنے پیاروں کی واپسی اور ان کے بارے میں معلومات کے منتظر ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی اور دیگر حریت رہنماﺅں نے اپنے بیانات میں کہا کہ بھارتی فوج اور دیگر قابض فورسز طویل عرصے سے کشمیریوں کی جبری گمشدگیوں میں براہِ راست ملوث ہیں۔ متعدد کشمیریوں کو آخری مرتبہ بھارتی فورسز کی حراست میں دیکھا گیا، لیکن اس کے بعد ان کے بارے میں ان کے اہلخانہ کو کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جبری گمشدگیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ لاپتہ کشمیریوں کے بارے میں ان کے اہلخانہ کو فوری طور پر معلومات فراہم کرے اور تمام زیرِ حراست افراد کو قانون کے مطابق اپنے خاندانوں سے ملنے کا حق دیا جائے۔حریت رہنماوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل،اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں اور بھارت پر عالمی قوانین کی پاسداری کے لیے دباو ڈالیں۔انہوں نے کشمیری نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل، دورانِ حراست اموات ، جبری گمشدگیوں، گرفتاریوں اور خواتین کی بے حرمتی سمیت انسانی حقوق کی مسلسل پامالیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنی ظالمانہ اور جابرانہ پالیسیوں کے ذریعے کشمیری عوام کی مبنی برحق جدوجہدِ آزادی کو ہرگز دبا نہیں سکتا۔حریت قیادت نے کہا کہ کشمیری عوام ایک عظیم مقصد کے لیے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں اور ان قربانیوں کی بدولت مسئلہ کشمیر آج بھی عالمی سطح پر ایک اہم اور توجہ طلب تنازعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کشمیری عوام پر جاری بھارتی مظالم سے آگاہ ہے اور بھارت کی جانب سے طاقت کے بل پر کشمیریوں کی آواز دبانے کی پالیسی قابلِ مذمت ہے۔حریت رہنماوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر کی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت تبدیل کرنے، آبادی کے تناسب کو بدلنے، کشمیری نوجوانوں کو نشانہ بنانے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کا عالمی برادری کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائیں، لاپتہ افراد کے معاملے کو سنجیدگی سے اٹھائیں اور کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دلانے کے لیے موثر کردار ادا کریں۔حریت قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام اپنی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک انہیں اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں مل جاتا۔








